ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ نے میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کو نکالنے سے روک دیا

لاہور ہائیکورٹ نے میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کو نکالنے سے روک دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف )لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کو نکالنے سے روک دیا۔
افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی،جسٹس خالد اسحاق نے 30 سے زائد افغان طلبہ کی درخواستوں پر سماعت کی۔
دوران سماعت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے وکیل نے کہا کہ افغان طلبہ کے پاس درست ویزے موجود نہیں ہیں،جسٹس خالد اسحاق نے استفسار کیا کہ داخلہ دیتے ہوئے ایجوکیشن ویزہ کیسے دیا تھا؟چار چار سال انکی زندگی کے ضائع کردیے اب واپس بھیج رہے ہیں،پی ایم ڈی سی کو شاہی حکم آیا جس کے بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا، نکالنے سے پہلے ایک بار تو ان طلبہ کو سن لیتے ،جب ان پر پیار آیا ہوا تھا تب پوری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹ رہے تھے۔
وکیل پی ایم ڈی سی نے کہا کہ پوری دنیا کا اصول ہے کہ ویلڈ ویزہ نہ ہو تو آپ رہ نہیں سکتے جس پر جسٹس خالد اسحاق نے کہا کہ کل تک فیورٹ چائلڈ تھے آج پالیسی تبدیل ہوگئی ،آپ ان کو بھی بھیج دیں مگر میڈیکل کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد۔
جسٹس خالد اسحاق نے مزید کہا کہ امریکہ میں بھی آپ درست ویزہ کے بغیر نہیں رہ سکتے ،امریکہ کی عدالتیں آزاد ہیں اور پاکستان میں بھی عدالتیں آزاد ہیں ،آپ ان طلبا کو سزائے موت ہی دے دیں۔
وکیل پی ایم ڈی سی نے کہا کہ سر یہ ریاستی سکیورٹی کا مسئلہ ہے جس پر جسٹس خالد اسحاق نے کہا کہ کوئی ریاستی سکیورٹی کا معاملہ نہیں ہے ،عدالت نے حکم دیا کہ کوئی میڈیکل کالج کسی طالب علم کو نہ نکالے گا نہ ہی ان کا پیپر کینسل کرے گا ۔
عدالت نے درخواست پر مزید کارروائی 18 ستمبر تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے پاکستان میں زیرتعلیم افغان طلبہ کو افغانستان واپس جانے کی ہدایت کی تھی،پی ایم ڈی سی کی جانب سے یکم ستمبر 2026 کو جاری مراسلے میں میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کی واپسی کیلئے انتظامی کارروائی مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ متعلقہ ادارے افغان طلبہ کو مطلوبہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کریں۔

Ansa Awais

Content Writer