ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حنا جاوید قتل کیس؛اہلخانہ نے پولیس تفتیش پر تحفظات کا اظہار کردیا

حنا جاوید قتل کیس؛اہلخانہ نے پولیس تفتیش پر تحفظات کا اظہار کردیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( ارشاد قریشی )حنا جاوید قتل کیس میں اہلخانہ نے پولیس تفتیش پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو خط لکھ دیا۔
 متاثرہ خاندان کی جانب سے وزارتِ قانون اور پارلیمنٹ کی کاکس کمیٹی کو بھی خطوط ارسال کیے گئے ہیں۔
حنا جاوید کے بھائی فہد جاویدکی جانب سے چیئرمین قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور وزارت قانون اور پارلیمنٹ کی کاکس کمیٹی کو لکھے گئے خط میں تفتیش ایف آئی آر کے مطابق نہ کئے جانے کے خدشے کا اظہار کیا گیاہے۔
خط میں کہاگیاہے کہ اہلخانہ کو خدشہ ہے حنا قتل کیس میں سچ کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے،تفتیش کا سارا رخ اصل ملزم کے بجائے گھریلو ملازم کی جانب موڑا جارہا ہے،کیس کے اہم شواہد کو درست طریقے سے محفوظ نہیں کیا گیا، مقتولہ حنا جاوید کے موبائل فون سے اپنی بہن کے ساتھ تمام پیغامات ڈیلیٹ کیے گئے ہیں۔
 خط میں کہاگیاہے کہ جائے وقوعہ سے ملنے والی خون آلود چادر پولیس کے بجائے سسر کے حوالے کی گئی ،مرکزی ملزم فیصل اصغر کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ فرانزک کیلئے قبضے میں نہیں لیا گیا، مرکزی ملزم اور گھریلو ملازم کے موبائل فونز کی ویب ایکٹیویٹی کا فرانزک بھی نہیں کرایا گیا،قتل کے محرک کا تاحال تعین نہ کیے جانے پر اہلخانہ کو تحفظات ہیں۔
 خط میں مزیدکہاگیاہے کہ اہم گواہوں، ملازماؤں، ڈرائیوراور ملزم کے بھائی کامل اور پڑوسیوں کے بیانات بھی قلمبند نہیں کئے گئے، ڈی این اے اور دیگر فرانزک رپورٹس میں تاخیر پر اہلخانہ کو شدید تشویش ہے،مقتولہ کے سسر کو جو مقدمے میں نامزد ہے غیر ضروری رعایت دی جارہی ہے،مرکزی ملزم فیصل کے قبضے سے تاحال کوئی برآمدگی نہیں کی گئی،مرکزی ملزم فیصل اصغر کے کمرے کی مناسب تلاشی نہ لینے پر بھی سوالات موجود ہیں۔

خط میں کہاگیاہے کہ پنجاب فرانزک لیبارٹری سے ڈی این اے اور فرانزک رپورٹس جلد حاصل کی جائیں،مرکزی ملزم اور گھریلو ملازم کے تمام الیکٹرانک آلات کا فوری فرانزک کرایا جائے،حنا جاوید کو بے رحمانہ طریقے سے قتل کیا گیا اہلخانہ انصاف کے منتظر ہیں، قتل کیس کی تفتیش آزاد تفتیشی ٹیم کے سپرد کرنے کی جائے.

Ansa Awais

Content Writer