ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کونسی غذا جگر کی عام بیماری سے بچا سکتی ہے؟

کونسی غذا جگر کی عام بیماری سے بچا سکتی ہے؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: ایک نئی طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فائبر سے بھرپور غذا کا استعمال جگر کی ایک عام مگر خطرناک بیماری سے بچاؤ یا اس کی شدت میں کمی لانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری بالعموم فرکٹوز، خصوصاً سافٹ ڈرنکس اور پروسیسڈ اشیاء میں موجود اضافی مٹھاس، کی زیادہ مقدار کے استعمال سے پیدا ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ فرکٹوز کے استعمال سے جگر میں چربی جمع ہونے لگتی ہے، جو وقت کے ساتھ فیٹی لیور بیماری کی ایک قسم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس بیماری کی علامات میں جگر میں سوزش، زخم اور مستقل خرابی شامل ہو سکتی ہے۔ یہ کیفیت ابتدا میں واضح علامات ظاہر نہیں کرتی، خصوصاً ایسے افراد میں جنہیں موٹاپا ہو، جس سے اس بیماری کی تشخیص مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ اگر اس کیفیت کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ دل کے امراض جیسے سنگین مسائل کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ تاہم، فائبر سے بھرپور قدرتی غذا جیسے پھل، سبزیاں، دالیں اور مکمل اناج جگر پر چربی کے اثرات کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرین صحت تجویز کرتے ہیں کہ پروسیسڈ شکر اور سافٹ ڈرنکس سے اجتناب اور قدرتی فائبر کا استعمال مجموعی صحت کے لیے بھی مفید ہے۔

جگر انسانی جسم کا نہایت اہم اور حساس عضو ہے جو خون بنانے، صفائی کرنے اور اسے پورے جسم میں پہنچانے جیسے اہم افعال انجام دیتا ہے۔ غذا ہضم ہونے کے بعد سب سے پہلے اس کی مائع غذائیت جگر میں پہنچتی ہے، جہاں یہ خون میں تبدیل ہو کر جسم کے تمام حصوں کو توانائی فراہم کرتی ہے۔ جگر صحت مند خون کی ترسیل اور زہریلے مادّوں کی علیحدگی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اسی لیے مجموعی صحت کا دارومدار جگر کی صحت پر ہوتا ہے۔

ماہرینِ غذائیت کے مطابق جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے قدرتی غذاؤں کا استعمال بہت اہم ہے، جبکہ پروسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال جگر پر منفی اثرات ڈالتا ہے اور مختلف بیماریوں، جیسے ہیپاٹائٹس اے، بی، سی اور فیٹی لیور کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق جگر کو فعال اور صحت مند رکھنے کے لیے مندرجہ ذیل قدرتی غذاؤں اور مشروبات کا استعمال بے حد مفید ہے۔پانی کا مناسب استعمال نہ صرف جسم کو تروتازہ رکھتا ہے بلکہ جگر کی صفائی کے عمل کو بھی بہتر بناتا ہے۔ روزانہ 8 سے 10 گلاس پانی پینا جگر کے افعال کو درست رکھتا ہے۔سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک، ساگ اور میتھی قدرتی طور پر جگر کی صفائی میں مدد دیتی ہیں اور زہریلے مادّوں کے اخراج کو آسان بناتی ہیں۔

ہلدی ایک قدرتی اینٹی سیپٹک ہے، جو نہ صرف جگر کی سوزش کو کم کرتی ہے بلکہ اس کے خلیات کو دوبارہ بننے میں بھی مدد دیتی ہے۔وٹامن سی سے بھرپور غذائیں، جیسے لیموں، مالٹے، ٹماٹر اور دیگر ترش پھل، مضرِ صحت مواد کی صفائی میں مدد دیتی ہیں اور جگر میں چربی جمع ہونے کے امکانات کو کم کرتی ہیں۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور غذائیں، جیسے مچھلی، السی کے بیج، اخروٹ اور چیا سیڈز، جگر میں سوزش کم کرنے اور چربی کے خلاف تحفظ فراہم کرنے میں مددگار ہیں۔ جنک فوڈ میں موجود غیر ضروری چربی جگر کو نقصان پہنچاتی ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔گریپ فروٹ میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور وٹامن سی جگر سے زہریلے مواد کو خارج کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ پھل ایسے کیمیکلز کو بھی متحرک کرتا ہے جو جگر پر چربی چڑھنے سے روکتے ہیں۔

سیب ایک اور مفید پھل ہے جو جسم میں کولیسٹرول لیول کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ اس میں موجود میلک ایسڈ اور اینٹی آکسیڈنٹس خون اور جگر کو صاف کرنے میں مددگار ہیں۔پیاز میں ایلیسن نامی ایک قدرتی مرکب موجود ہوتا ہے جو جگر اور نظامِ ہضم کو صاف رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں فائٹو نیوٹرینٹس اور فلیوونوائڈز بھی ہوتے ہیں جو جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔

دالیں پودوں سے حاصل ہونے والا پروٹین فراہم کرتی ہیں، جو جگر پر کم دباؤ ڈالتی ہیں۔ دالوں میں موجود پروٹین کی متوازن مقدار جگر کے مریضوں کے لیے محفوظ مانی جاتی ہے۔

فائبر سے بھرپور غذا اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کر کے نہ صرف جگر کو چربی اور سوزش سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے، بلکہ دل اور دیگر اہم اعضا کو بھی کئی بیماریوں سے بچایا جا سکتا ہے۔ یہ معمولی سی تبدیلی زندگی بھر کی بڑی پریشانیوں سے نجات دلا سکتی ہے۔