سٹی 42؛وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبے میں ممکنہ کلاؤڈ برسٹ اور فلیش فلڈز کے پیش نظر آئندہ سمر سیزن کے لیے جامع کنٹنجینسی پلان وضع کرنے کی ہدایت کردی۔
پشاور میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت محکمہ ریلیف، بحالی و سیٹلمنٹ کا بذریعہ وڈیو لنک اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ نے حساس مقامات پر ممکنہ سیلابی صورتحال سے بچاؤ کے لیے دیرپا اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ،وزیر اعلیٰ نے رمضان کے فوری بعد تمام ریور بیڈز اور بڑے شہروں میں تجاوزات کے خلاف موثر مہم شروع کرنے کی بھی ہدایت کی ۔
سیلاب متاثرین اور ٹی ڈی پیز کو معاوضوں کی ادائیگی کے لیے درکار وسائل کی اصولی منظوری بھی دے دی گئی جبکہ مختلف اضلاع میں ٹی ڈی پیز کو معاوضوں کی ادائیگی تیز کرنے اور شارٹ فال دور کرنے کے لیے وسائل کی تفصیل طلب کرلی گئی۔
اجلاس میں ریسکیو 1122 کی 1326 آسامیوں پر بھرتی کا عمل جلد مکمل کرنے اور دوسرے مرحلے میں مزید 1125 آسامیوں کی تخلیق پر اتفاق کیا گیا۔
وزیر اعلی نے ہیومن ریسورس اور اثاثہ جات کی مؤثر مینجمنٹ کے لیے ڈیش بورڈ بنانے اور محکمانہ امور کو ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت کی،ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ویئر ہاؤسز قائم کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا گیا،ایمرجنسی کی صورت میں بروقت رسائی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔
وزیر اعلی نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کا اجلاس طلب کرنے اور اس مقصد کے لیے تفصیلی ورکنگ پیپر تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔
بریفننگ میں کہا گیا کہ تحصیل سطح پر ریسکیو 1122 دفاتر کے قیام پر پیش رفت جاری ہے جو 2027 تک صوبے کی تمام تحصیلوں میں دفاتر قائم ہوں گے،پانچ سالہ ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اور پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان پربھی کام جاری ہے،خیبرپختونخوا اس نوعیت کا پلان بنانے والا ملک کا پہلا صوبہ ہوگا۔