مانا کہ وقت کی پابندی لازم۔۔لیکن بچوں و اساتذہ کو اتنی بڑی سزا کیوں؟

students standing outside the school
students standing outside the school

(جنید ریاض) گورنمنٹ بوائز ہائی سکول میں دس منٹ لیٹ آنے پراساتذہ وطلباء کیلئے سکول کے دروازے بند کردیئے گئے۔پسینے میں شرابور بچے و اساتذہ گھنٹوں سکول کے باہر کھڑے  رہے۔

 تفصیلات کے مطابق گیٹ بند ہونے پر پچاس سے زائد طلباء اور تین اساتذہ گھنٹوں سکول کے مرکزی گیٹ پر کھڑے رہے لیکن سکول انتظامیہ نے درگزر سے کام نہ لیا بالآخر طلباء واساتذہ گھنٹوں خوار ہونے کے بعد گھر واپس لوٹ گئے۔

 سکول انتظامیہ کا موقف ہے کہ لیٹ آنے والے اساتذہ و طلباء کو کسی صورت سکول آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ ہر ادارے میں پندرہ منٹ کی چھوٹ دی جاتی ہے لیکن یہاں پورے وقت پر گیٹ کو تالہ لگادیا جاتا ہے۔سکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لیٹ آنے والے اساتذہ و طلباء کی ادارے کو ضرورت نہیں ۔ سی ای او ایجوکیشن پرویز اخترخان کا کہنا ہے کہ معاملہ کا سخت نوٹس لیا جائے، سکول انتظامیہ کا بچوں اور اساتذہ کو لیٹ آنے پر سزا دینے کا طریقہ کار درست نہیں۔سکول ہیڈ مطیع الرحمان کیخلاف معاملہ پر پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کیجائے گی۔

 واضح رہے کہ قبل ازیں پنجاب حکومت نے کورونا کیسز میں کمی آنے پر 7 جون بروز پیر سے تمام سرکاری اور نجی سکول کھول دیے تھے، سیکرٹری سکول ایجوکیشن نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا تھا۔ 

سیکرٹری سکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر کے نجی و سرکاری سکولوں میں پہلی سے نویں جماعت تک کلاسز 50 فیصد حاضری کے ساتھ ہوں گی۔ سکولز ایس او پیز کے ساتھ کھولے جائیں گے، کوئی طالب علم لگا تار 2 دن سکول نہیں آئے گا، کلاسز کے دوران کورونا ایس اوپیز پر عملدرآمد لازمی ہوگا، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر متعلقہ سکولز کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔