ملک اشرف: لاہورسمیت صوبہ بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قلت دور کرنے کے لیے دائر درخواست سماعت کے لیے مقرر، چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان کل بارہ جون کو کیس کی سماعت کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق ایڈووکیٹ شبیرحسین نے فرحت منظور چاندیو ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواست دائر کی، درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت ہیٹرولیم، اوگرا اور پنجاب حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قمیتیں کم کی گئیں، نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جون سے کیا گیا۔
قیمتیں کم ہونے سے پیٹرول پمپس ڈیلرز نے پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کردی، مصنوعی قلت کے باعث شہر کے پمپسں پرپیٹرول مناسب مقدار میں دستیاب نہیں، انتظامیہ پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب دستیابی یقینی بنانے میں ناکام ہوچکی ہے۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت متعلقہ اداروں کو پیٹرولیم مصنوعات کی قلت دور کرنے کا حکم دے، مزید استدعا کی گئی کہ عدالت مہنگے داموں ہیٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دے۔
واضح رہے کہ شہر میں پٹرول کی قلت کا مسئلہ سنگین ہوگیا ہے، متعدد پٹرول پمپ بند اور پٹرول کی ترسیل بھی بند، شہری پڑول کی تلاش میں مارے مارے پھرنے لگے۔ پٹرول کی قمیت میں کمی ہوئے 11 دن گزر گئے مگر پھر بھی پٹرول کی قلت کا مسئلہ حل نہ ہوسکا، پٹرول کی کمی کے باعث شہری شدید پریشانی میں مبتلا، شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسی کم قمیت کو کیا کرنا جس کے بعد پٹرول مل ہی نہیں رہا اور مجبوری میں پٹرول سے مہنگا ہائی اوکٹین ڈلوانا پڑ رہا ہے۔
پٹرول پمپ کی بندش اور پٹرول نہ ملنے سے کاروباری سرگرمیاں بھی متاثرہیں جبکہ عام شہری شدید مشکلات سے دوچار ہے۔