ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، فیملی کیسز میں شناختی کارڈ بلاک کرنا غیر قانونی قرار

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، فیملی کیسز میں شناختی کارڈ بلاک کرنا غیر قانونی قرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف:لاہور ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فیملی کورٹ کے ڈگری کیسز میں شناختی کارڈ بلاک کرنا غیر قانونی ہے اور اس کا قانون میں کوئی جواز موجود نہیں۔

جسٹس مزمل اختر شبیر نے سائل ناصر علی رانجھا کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ شناختی کارڈ شہری کی بنیادی شناختی دستاویز ہے، جسے واضح قانونی اختیار کے بغیر بلاک نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ فیملی کیسز میں ڈگری پر عملدرآمد قانون کے مطابق ہوگا اور ضابطہ دیوانی (سی پی سی) کی دفعہ 51 ای کے تحت شناختی کارڈ بلاک کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کا بلاک شناختی کارڈ فوری بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے ماتحت عدالت کا حکم کالعدم قرار دے دیا، تاہم دیگر عدالتی کارروائی قانون کے مطابق جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ شناختی کارڈ بلاک کرنا شہری کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتا ہے اور ایسا اختیار کسی قانون میں موجود نہیں، اس لیے ماتحت عدالتوں کی جانب سے شناختی کارڈ بلاک کرنے کے احکامات بھی کالعدم قرار دیے گئے۔

عدالت نے اپنے اس فیصلے کو آئندہ مقدمات کے لیے عدالتی نظیر بھی قرار دیا ہے۔