ویب ڈیسک: بھارت کی مرکزی حکومت نے کرنسی نظام کو زیادہ پائیدار اور محفوظ بنانےکیلئے 10 اور 20 روپے کے پلاسٹک ( پولیمر) نوٹوں کے فیلڈ ٹرائل کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت نے دونوں مالیت کے ایک ایک ارب، یعنی مجموعی طور پر 2 ارب پلاسٹک نوٹ جاری کرنے کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق آج راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے اپنے مرکزی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سفارش کی بنیاد پر آر بی آئی ایکٹ 1934 کی دفعہ 25 کے تحت یہ تجویز مرکزی حکومت کو بھیجی تھی۔ تجویز میں فیلڈ ٹرائل کے کامیاب رہنے کی صورت میں 10 اور 20 روپے کے پلاسٹک نوٹوں کو باقاعدہ طور پر جاری کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔وزیر خزانہ کے مطابق حکومت نے اس تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ آر بی آئی کی جانب سے حکومت کو بتایا گیا ہے کہ پلاسٹک نوٹوں کو موجودہ کاغذی نوٹوں کے ساتھ متوازی طور پر گردش میں لانے کی تجویز ہے۔ یعنی نئے نوٹ جاری ہونے کے بعد موجودہ کاغذی نوٹ فوری طور پر ختم نہیں کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ پلاسٹک نوٹ خصوصی قسم کے پولیمر یعنی پلاسٹک پر مبنی مواد سے تیار کیے جاتے ہیں۔ عام کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں یہ زیادہ پائیدار ہوتے ہیں اور نمی، دھول اور روزمرہ استعمال سے ہونے والی گھسائی کو بہتر طور پر برداشت کر سکتے ہیں۔ آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک پہلے ہی اس طرح کے نوٹ استعمال کر رہے ہیں۔ پلاسٹک نوٹوں کی عمر کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں زیادہ ہونے کی وجہ سے بار بار نئے نوٹ چھاپنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ اس سے طویل مدت میں کرنسی کی چھپائی اور تبدیلی سے متعلق اخراجات میں کمی آنے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ ان نوٹوں میں جدید حفاظتی خصوصیات شامل کرنا بھی آسان ہوتا ہے، جس سے جعلی نوٹوں کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ ابھی ان نوٹوں کی خریداری کا عمل ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس لیے فی الحال یہ بتانا ممکن نہیں ہے کہ پلاسٹک نوٹ عام لوگوں کے لیے کب تک دستیاب ہوں گے یا اس پورے منصوبے پر کتنی لاگت آئے گی۔