ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان میں کن موبائل فونز میں ’’ای سم‘‘ استعمال کی جا سکے گی؟

پاکستان میں کن موبائل فونز میں ’’ای سم‘‘ استعمال کی جا سکے گی؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ویب ڈیسک ) پاکستان میں ای سم کے فروغ کے لیے پی ٹی اے اقدامات کر رہی ہے ملک میں کن موبائل فونز میں ای سم استعمال کی جا سکے گی؟

 پی ٹی اے نے ای سم کو ہر موبائل فون صارف کی دسترس میں لانے کے لیے اس کی ابتدائی فیس 1500 روپے مقرر کر دی ہے اور ایک فون سے دوسرے فون پر ای سم کی کم از کم 10 بار مفت منتقلی کی اجازت دی گئی ہے۔ نئی پالیسی 17 اگست 2026 سے نافذ ہوگی۔

 تاہم ملک میں یہ کتنے فیصد یا کن موبائل فون پر استعمال کی جا سکے گی اس بارے میں عام صارف کا جاننا ضروری ہے۔

 پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والوں اور سمارٹ فونز کے سرکاری اعداد وشمار پر نظر ڈالی جائے تو اس وقت پاکستان میں کل فعال موبائل کنکشنز کی تعداد 19 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جن میں سے اسمارٹ فونز کا تناسب تقریباً 55 سے 60 فیصد ہے۔

 یعنی ملک میں تقریباً 10 سے 11 کروڑ افراد سمارٹ فونز کا استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم، اگر ای سم کی اہلیت رکھنے والے اسمارٹ فونز کا جائزہ لیا جائے تو یہ تعداد فی الوقت زیر استعمال اسمارٹ فونز کا تقریباً 8 سے 12 فیصد بنتی ہے۔

 اس کم تناسب کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ای سم کی تکنیکی چِپ فی الحال زیادہ تر فلیگ شپ اور مڈ رینج فونز جیسے کہ ایپل کے آئی فون (آئی فون ایکس ایس اور اس کے بعد کے ماڈلز)، سیمسنگ کی ایس سیریز اور نوٹ سیریز، گوگل پکسل، اور شیاؤمی یا موٹرولا کے مخصوص اعلیٰ ماڈلز تک محدود ہے۔

 اس کے برعکس پاکستان میں مارکیٹ کا بڑا حصہ بجٹ اور انٹری لیول فونز پر مشتمل ہے جن میں فی الحال ای سم کا ہارڈویئر شامل نہیں کیا جاتا۔

 تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ پی ٹی اے کی نئی پالیسی اور فیسوں کی حد بندی کے باعث آئندہ چند سالوں میں جیسے ہی مینوفیکچررز سستے فونز میں ای سم ہارڈویئر کی فراہمی شروع کریں گے، مقامی مارکیٹ میں اس کا استعمال تیزی سے پھیلے گا۔
 
 

Ansa Awais

Content Writer