سٹی42: امریکہ کا ایف 35 سی سٹیلتھ بمبار طیاروں سے لیس بحری بیڑا یو ایس کارل ونسن بھی مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انکشاف کے بعد کہ اگر عمان میں امریکہ ایران مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کریں گے، یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ دوسرا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ پہنچ گیا۔
امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ دوسرا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے، جہاں واشنگٹن کی افواج یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف تقریباً روزانہ فضائی حملے کر رہی ہیں۔
یہ طیارہ بردار بحری جنگی جہاز 'یو ایس کارل ونسن' جو ایف 35 سی سٹیلتھ جنگی طیاروں سے لیس ہے، اب خلیج فارس کے علاقہ میں پہلے سے موجود طیارہ بردار بحری جنگی جہاز 'یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین' کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے.
امریکی سنٹرل کمانڈ سینٹ کوم نے سوشل پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹ میں یہ اطلاع دینے کے ساتھ جو ویڈیو کلپس اپ لوڈ کی ہین ان میں دونوں بحری جہازوں سے اڑان بھرنے والے ہوائی جہاز دکھائے گئے ہیں۔
پینٹاگون نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی جہازوں کی تعداد بڑھا کر دو کر رہا ہے۔
امریکہ کی جانب سے خلیج فارس کے علاقہ میں اپنی فوجی قوت کو برھانے کی بظاہر وجہ یمن کے ایک حصہ پر قابض ایران کے پراکسی حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔ یہ حوثی ایرانی اسلحہ کے ساتھ امریکہ اور دوسرے ملکوں کے خلیج فارس سے گزرنے والے ٹینکرز پر مسلسل حملے کرتے رہے ہیں۔ تاہم ایف 35 سی سٹیلتھ طیاروں سے لدے ہوئے بحری بیڑے کی یہاں موجودگی مستقبل میں ایران کی ایٹمی تنصیبات پر کسی حملے کے لئے بھی کام آ سکتی ہے۔
امریکہ نے مارچ میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف اپنی فضائی مہم کا تازہ ترین دور شروع کرنے کے بعد حوثی خطرے کو ختم کرنے کے لیے، جو ان سے خطے میں شہری جہاز رانی اور فوجی جہازوں کو لاحق ہے، اپنے فوجی بلڈ اپ میں جو نمایاں اضافہ کیا اس میں ایف 35 سی سٹیلتھ طیاروں کی ڈپلائمنٹ سر فہرست ہے۔ یہ طیارے بنیادی طور پر زیر زمین تنصیبات کو تباہ کرنے کے کام آتے ہیں۔ ایسی کچھ تنصیبات یمن میں حوثی باغیوں کے مقبوضہ علاقوں میں تھیں جن میں ایران کے ڈمپ کئے ہوئے بیلسٹک اور سپر سونِک میزائل رکھے گئے تھے، ان میں سے کچھ تنصیبات کو امریکہ سینٹ کوم گزشتہ دنوں کے دوران ائیر سٹرائیکس میں تباہ کر چکی ہے۔
ایران کے اندر نامعلوم مقامات پر موجود بیشتر ایٹمی تنصیبات، میزائلوں اور دوسرے حساس اسلھہ کی ذخیرہ گاہیں اور فیکٹریاں، بتایا جاتا ہے کہ زیر زمین ہیں اور ان پر صرف ایف 35 سی جیسے بمباروں سے اٹیک کیا جا سکتا ہے۔
آج دس اپریل کو ہی واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں بتایا کہ ایران کے ساتھ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات ناکام ہوئے تو اسرائیل ایران پر حملہ کی قیادت کرے گا۔

خلیج میں دو بحری بیڑوں کی ڈپلائمنٹ رئیر واقعہ
مارچ کی 21 تاریخ کو یہ خبر آئی تھی کہ امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، ایک غیر معمولی اقدام میں، مشرق وسطیٰ میں بحریہ کے جنگی جہازوں کی موجودگی کے دورانیہ کو بڑھا رہے ہیں، اور یو ایس ایس کارل ونسن کو اگلے ماہ (اپریل میں) وہاں موجود رہنے کا حکم دے رہے ہیں۔
ایک امریکی اہلکار نے اس وقت بتایا تھا کہ یہ اقدام یمن کے حوثی باغیوں پر امریکی حملوں میں اضافے کے ساتھ موافق ہے۔
چھ مہینوں میں یہ دوسرا موقع ہے کہ امریکہ نے اس خطے میں دو کیریئر اسٹرائیک گروپ اکٹھے کئے ہیں، جب کہ عام طور پر اس علاقہ میں صرف ایک ہی بحری بیڑے کی موجودگی کو امریکہ کافی سمجھتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے جنگی جہازوں کی اتنی طاقت برسوں بعد مجتمع ہوئی ہے۔
وزیر دفاع ہیگستھ نے جمعرات 20 مارچ کو یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین کو مشرق وسطیٰ میں کم از کم ایک اضافی ماہ کے لیے رکھنے کے احکامات پر دستخط کیے تھے۔
یو ایس ایس کارل ونسن 2 مارچ 2025 کو جنوبی کوریا کے جنوب مشرقی شہر بوسان میں بحری اڈے پر پہنچا تھا۔ اس اہم بحری جہاز کو امریکہ کے سمندروں میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور بدلنے والے لیور کی حیثیت حاصل ہے۔
مارچ میں یہ بحری بیڑا بحیرہ احمر (ریڈ سی) میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا تھا اور مارچ کے آخر میں اسے ورجینیا کے شہر نورفولک کی طرف روانہ ہونا تھا۔