سٹی42: بہت بڑے بزنس مین قانون کے شکنجے میں بری طرح پھنس گئے۔ فراڈ کے بعد منی لانڈرنگ کا بھی مقدمہ درج ہو گیا۔
پڑوسی ملک بھارت کے بہت بڑے بزنس مین انیل امبانی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، ان پر بہت بڑی رقم کے بینک فراڈ کا مقدمہ پہلے ہی چل رہا ہے، اب ای ڈی نے منی لانڈرنگ کے تحت ایک اور معاملہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایس بی آئی کے ممبئی برانچ کی ڈی جی ایم جیوتی کمار نے 18 اگست کو ای ڈی کو شکایت درج کرائی۔ اس شکایت کی بنیاد پر ای ڈی نے مقدمہ درج کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق انیل امبانی کی مشکلات میں کمی کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ کچھ روز قبل سی بی آئی نے ان کی اس اپیل کو خارج کر دیا تھا، جس میں انہوں نے یَس بینک میں کی گئی سرمایہ کاری کی تحقیق بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اب خبر ہے کہ مرکز کی تحقیقاتی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے انیل امبانی اور ان کی کمپنی ریلائنس کمیونکیشن کے خلاف پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
اس سے پہلے یہ خبر آئی تھی کہ منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے لئے انیل امبانی سے دہلی میں 10 گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی۔ ان کے بیان کی ویڈیوگرافی کی گئی اور انہیں، دوبارہ طلب کئے جانے کا امکان ہے۔
’اکنامک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق اس معاملہ میں انیل امبانی اور ان کی کمپنی پر سٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کو تقریباً 2929 کروڑ کا نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ سی بی آئی کے ذریعہ درج کردہ ایف آئی آر کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے، جو 12 اگست کو سامنے آیا تھا۔
دراصل سی بی آئی نے انل امبانی کی کمپنی ریلائنس کمیونکیشن پر سترہ ہزار کروڑ روپے کے بینک فراڈ کا معاملہ درج کیا تھا۔ اس کے بعد 23 اگست کو ممبئی میں سی بی آئی نے ان کے آفس اور ان کے گھر پر چھاپے ماری بھی کی تھی۔ سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس بینک فراڈ سے ریاست کے سٹیٹ بینک کو بھی بھاری نقصٓن پہنچا ہے۔
مذکورہ معاملہ سامنے آنے کے بعد انل امبانی کی جانب سے الزامات کو مکمل طور سے خارج کر دیا گیا تھا۔ ان کے ترجمان نے کہا کہ اس معاملہ میں انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ متعلقہ شکایت ایس بی آئی کے ذریعہ ان معاملوں پر کی گئی ہے جو تقریباً 10 سال قبل کے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اس وقت انل امبانی ریلائنس کمیونکیشن کے نان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تھے اور کمپنی کے روز مرہ کے انتظام میں براہ راست ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ دوسری جانب سی بی آئی کے بعد ای ڈی نے بھی اس معاملہ میں منی لالنڈرنگ کے شک کی بنیاد پر تحقیقات شروع کر دی ہے۔
ای ڈی نے اب تک 3 مختلف معاملوں میں انل امبانی اور ان کی کمپنیوں کی مبینہ دھوکہ دہی کی تحقیقات کی ہے۔ 18 اگست کو میڈیا رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا تھا کہ ای ڈی نے انل امبانی کی ریلائنس گروپ کے کئی سینئر افسران سے 17000 کروڑ روپے کے بینک قرض گھوٹالے کی تحقیقات کے سلسلے میں پوچھ تاچھ کی ہے۔ تحقیقات کے دوران ای ڈی نے تقریباً 20 سے زائد پرائیویٹ اور پبلک بینکنگ اداروں کو خط لکھ کر ریلائنس گروپ کو دیے گئے قرض اور ان کے کریڈٹ جانچ کی جانکاری مانگی ہے۔
اس معاملہ میں ای ڈی نے منگل (9 ستمبر) کو انل امبانی کے سابق قریبی ساتھی امیتابھ جھنجھن والا سے پوچھ تاچھ کی، جو پہلے بھی تحقیقات کے دوران ایجنسی کے سامنے آ چکے ہیں۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اس بینک دھوکہ دہی کا پتہ تب چلا جب ایس بی آئی کے ممبئی برانچ کی ڈی جی ایم جیوتی کمار نے 18 اگست کو ای ڈی کو شکایت درج کرائی۔ اس شکایت کی بنیاد پر ای ڈی نے معاملہ درج کیا ہے۔ جیوتی کمار نے بتایا کہ یہ معاملہ اکتوبر 2020 میں ایک فارینسک آڈیٹر کی رپورٹ کے ذریعہ سامنے آیا تھا۔