سٹی42: راولپنڈی میں بانی کی بہنوں علیمہ خان، نورین خان اور عظمیٰ ضان کی موجودگی میں صحافی طیب بلوچ پر تشدد کرنے والے علیمہ خان کے کارکن کو گرفتارکرلیاگیا۔
آج بدھ کے روز یہ اطلاع آئی ہے کہ پولیس نے اڈیالہ جیل راولپنڈی کے گیٹ نمبر 5سے پی ٹی آئی کے کارکن ضیا کو گرفتار کر لیا۔ اس گرفتاری کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری اور ایس ایچ او تھانہ صدر کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ وکیل خالد چوہدری نے پولیس کو ضیا کو گرفتار کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔
پولیس نے بتایا ہے کہ ضیا کو صحافی طیب بلوچ پر تشدد کے مقدمے میں، تشدد کے دوران بننے والی ویڈیوز کی فوٹیجز کی مدد سے شناخت کے بعد حراست میں لیا گیا ہے۔
علیمہ خان سے سوالات پوچھنے پر صحافی پر تشدد کا معاملہ
گزشتہ روز پی ٹی آئی کے بانی کی بہنوں نے اڈیالہ جیل کے باہر وکیلوں اور کارکنوں کے ساتھ جمع ہو کر میڈیا کے نمائندوں سے بات کی، اس موقع پر ایک صحافی طیب بلوچ نے علیمہ خان سے کچھ سوالات کئے جنہیں علیمہ خان اور ان کے ساتھیوں نے "سخت سوالات" تصور کیا۔ علیمہ خان کے ساتھ موجود وکیلوں اور کارکنوں نے سوالات پوچھنے کے جرم میں صحافی طیب بلوچ کے ساتھ بدتمیزی کی، انہیں گھسیٹ کر پیچھے لے گئے اور تشدد کیا۔ اس دوران وہاں موجود سینئیر صحافی اعجاز کھوکھر نے علیمہ خان سے شکایت کی اور اس واقعہ پر سخت احتجاج کیا۔ اعجاز احمد نے کہا کہ سوال کرنا صحافی کا بنیادی حق ہے، سوال پوچھنے پر تشدد کرنا شدید زیادتی ہے۔ بعد مین صحافیوں نے اس واقعہ کا سخت نوٹس لیا اور صحافی تنظیموں کے مطالبہ پر راولپنڈی پولیس نے صحافی طیب بلوچ پر حملہ، علیمہ خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
اڈیالہ جیل کے باہر صحافی طیب بلوچ پر حملے کا مقدمہ تھانہ صدر بیرونی راولپنڈی میں درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمے میں علیمہ خان، نعیم حیدر پنجوتھہ اور دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 506، 147، 149، 382 اور 427 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ علیمہ خان کی میڈیا سے گفتگو کے دوران تحریک انصاف کے رہنما نعیم پنجوتھہ نے للکار کر کہا کہ اسے علیمہ خان سے جائیدادوں سے متعلق سوال کرنے کا مزا چکھاؤ۔ اس کے بعد تنویر اسلم، ظفر اور ٹوما نے صحافی کو دبوچ کر زمین پر گرایا، جبکہ دیگر افراد نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔
درخواست کے مطابق یہ حملہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت کیا گیا۔ واقعے کے بعد صحافیوں اور کیمرہ مینوں نے طیب بلوچ کو بچانے کی کوشش کی، تاہم اعجاز احمد سمیت دیگر صحافیوں کو بھی دھکے دیے گئے اور گالم گلوچ کی گئی۔
فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کا احتجاج
ادھر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے صدر افضل بٹ نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے احتجاج کی کال دے دی ہے۔ نیشنل پریس کلب اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) نے آج شام 4 بجے نیشنل پریس کلب کے باہر مظاہرے کا اعلان کیا ۔
کارروائی ہو گی، عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ سے بھی سینئیر صحافیوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت صحافی طیب بلوچ پر تشدد کے ذمہ داروں کو گرفتار کروائے۔ اس پر وزیر اطلاعات نے کہا، صحافی طیب بلوچ پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
نیشنل پریس کلب کی احتجاج کی کال
نیشنل پریس کلب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی قیادت نے معافی نہ مانگی تو بدھ کے روز راولپنڈی پریس کلب، لیاقت باغ اور اڈیالہ جیل کے باہر سمیت ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
@Afzalbutt01 @tayyabbalochpk @AmirSaeedAbbasi @PTIOfficialISB @PTIofficial pic.twitter.com/V4vsIhMqsM
— Media Talk (@mediatalk922) September 8, 2025