ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کیا نکاح نامے میں لکھوائے گئے زیورات بیوی کی ملکیت ہوتے ہیں؟

کیا نکاح نامے میں لکھوائے گئے زیورات بیوی کی ملکیت ہوتے ہیں؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: فیملی عدالت میں دائر ایک مقدمے نے نکاح نامے میں درج زیورات کی قانونی حیثیت اور ملکیت کے سوال کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شوہر نے نکاح نامے میں درج زیورات بیوی کو بتائے بغیر غائب کر دیےجو کہ چوری کے زمرے میں آتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شہری رشید کے خلاف ان کی اہلیہ نے فیملی عدالت میں جہیز اور نکاح نامے میں درج زیورات کی واپسی کا دعویٰ دائر کیا ہے۔ درخواست گزار بیوی کا مؤقف ہے کہ نکاح نامے میں زیورات کی وضاحت کی گئی تھی اور وہ اس کی ذاتی ملکیت تھے، لیکن شوہر نے انہیں غائب کر دیا یا چھپا لیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق نکاح نامے میں درج زیورات اگر جہیز یا مہر کے طور پر عورت کو دیے گئے ہوں تو وہ اسی کی ملکیت تصور کیے جاتے ہیں اور شوہر انہیں بغیر اجازت نہ بیچ سکتا ہے نہ غائب کر سکتا ہے۔ اس طرح کا عمل دیوانی دعویٰ کے علاوہ فوجداری کارروائی کا بھی سبب بن سکتا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شوہر کی جانب سے زیورات کا غائب کیا جانا چوری کے زمرے میں آتا ہے اور یہ قابل سزا جرم ہے۔

عدالت نے زیورات کی ملکیت، حقیقت اور دستیابی کی جانچ کے لیے شہری رشید کو طلب کر لیا ہے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت 25 اکتوبر کو مقرر کی گئی ہے جس میں مزید قانونی نکات کا جائزہ لیا جائے گا۔