ویب ڈیسک: ملک کی معروف آٹو موبائل کمپنی انڈس موٹرز نے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے.
یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت کے بعد کیا گیا ہے۔ کمپنی نے اس سلسلے میں انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) سے رابطہ کر لیا ہے تاکہ درآمد کے مکمل طریقہ کار، قواعد و ضوابط اور دستاویزی تقاضوں کی وضاحت حاصل کی جا سکے۔
انڈس موٹرز نے واضح کیا ہے کہ وہ مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری کا عمل جاری رکھے گی تاکہ ملکی صنعت اور روزگار کو سہارا دیا جا سکے تاہم اب کمپنی استعمال شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ میں بھی قدم رکھنے جا رہی ہے۔
کمپنی کے سی ای او علی اصغر جمالی کا کہنا ہے کہ جیسے ہی قانونی اور تکنیکی معاملات مکمل ہوں گے، کمپنی ہر قسم کے ماڈلز کی گاڑیاں درآمد کرے گی۔ ان کے مطابق، "ہماری کوشش ہو گی کہ صارفین کو جدید اور معیاری گاڑیوں تک رسائی دی جائے، اور کمپنی کا موجودہ ڈیلرشپ نیٹ ورک اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔"
ملک بھر میں کمپنی کے 58 ڈیلرشپ سینٹرز موجود ہیں جہاں تربیت یافتہ انجینئرز اور ٹیکنیشنز خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سی ای او کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی درآمد کے بعد صارفین کو بہترین آفٹر سیلز سروس فراہم کی جائے گی۔ایک سوال کے جواب میں کہ آیا استعمال شدہ درآمد شدہ گاڑیاں مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں سے سستی ہوں گی، علی اصغر جمالی نے کہا کہ حقیقی فرق تب ہی سامنے آئے گا جب درآمد کا عمل باقاعدہ طور پر شروع ہو جائے گا۔