ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب فوڈ اتھارٹی کی غیرمعیاری دودھ کی تلفی کی کارروائیوں پر اظہار برہمی

لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب فوڈ اتھارٹی کی غیرمعیاری دودھ کی تلفی کی کارروائیوں پر اظہار برہمی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے مضر صحت اور غیر معیاری دودھ تلف کرنے کی کارروائیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر غیر معیاری دودھ یا گوشت مالِ مقدمہ ہی تلف کر دیا جائے تو پھر ملزمان کو سزا کیسے دی جا سکتی ہے؟ عدالت نے معاملے کی حساسیت اور قانونی تشریح کی ضرورت کے پیش نظر لارجر بینچ بنانے کی سفارش کردی۔

جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس محمد طارق ندیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی اپیل پر سماعت کی۔ ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن پنجاب شہزادہ سلطان احمد بھی پنجاب حکومت کے لاء افسر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ فوڈ اتھارٹی کے وکیل سے استفسار کیا کہ اتھارٹی جو سامان ضبط کرتی ہے، وہ پولیس کے حوالے کیوں نہیں کیا جاتا؟ کیا فوڈ اتھارٹی کے اپنے قواعد و ضوابط (ریگولیشنز) بنائے گئے ہیں؟ جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ اگر مال مقدمہ تلف کر دیا جائے اور بعد ازاں ملزم بری ہو جائے تو وہ اپنا مال کہاں سے واپس لے گا؟عدالت نے مشاہدہ کیا کہ فوڈ اتھارٹی والے بغیر عدالتی کارروائی کے ہی پکڑا گیا دودھ اور گوشت ضائع کر دیتے ہیں، جبکہ اس دوران میڈیا پر فوٹیجز اور ٹکرز بھی چلا دیے جاتے ہیں۔ جسٹس محمد طارق ندیم نے ریمارکس دیے کہ جب کیس پراپرٹی ہی ضائع ہو جائے تو عدالت کسی ملزم کو سزا کیسے سنا سکتی ہے۔ جسٹس  محمد طارق ندیم نے نارکوٹکس قوانین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ضبط شدہ مال کو ضائع کرنے سے پہلے عدالت کی اجازت ضروری ہوتی ہے، اسی طرح کا طریقہ کار فوڈ اتھارٹی کو بھی اپنانا چاہیے۔ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن شہزادہ سلطان احمد نے عدالت کی آبزرویشن سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ اتھارٹی کو مالِ مقدمہ ضائع نہیں کرنا چاہیے، پولیس کو کیس پراپرٹی دیے بغیر مکمل ریکوری ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کی نشاندہی درست ہے اور فوڈ اتھارٹی کو قانون کے دائرے میں رہ کر کارروائی کرنی چاہیے۔

جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ شک ہے کہ فوڈ اتھارٹی بعض کارروائیوں میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 201 کی زد میں نہ آجائے، کیونکہ مالِ مقدمہ کو تلف کرنا قانونی طور پر سنگین معاملہ ہے۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ فوڈ اتھارٹی کے مقدمات میں سزائیں ناکافی ہیں، بعض جرائم پر صرف دو یا چھ ماہ کی سزا لکھی ہوئی ہے، جو مضر صحت دودھ اور گوشت فروخت کرنے جیسے سنگین جرم کے لیے ناکافی ہے۔عدالت نے فوڈ اتھارٹی کو ہدایت دی کہ آئندہ پکڑے گئے دودھ اور گوشت کو خودمختار لیبارٹری سے چیک کروایا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن شہزادہ سلطان احمد نے عدالت کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا: "مائی لارڈ، ابسولیوٹلی کریکٹ۔" جسٹس فاروق حیدر نے  ریمارکس دیے کہ یہ انتہائی اہم عوامی مفاد کا کیس ہے، اس پر بڑا بینچ تشکیل دینا ضروری ہے۔عدالت نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے دودھ اور گوشت ضائع کرنے سے متعلق اقدامات پر لارجر بینچ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کیس فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دی۔ اس درخواست میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے مجسٹریٹ کے اُس حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی جس میں ملزم کو ضبط شدہ سامان سپرداری پر  دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

Ansa Awais

Content Writer