فیس بک کا سوشل میڈیا صارفین کو ہراساں کئے جانےکااعتراف

facebook, meta, first report
facebook meta logo

  ویب ڈیسک : فیس بک جس نے اپنا نیا نام میٹا رکھ لیا ہے  نے پہلی دفعہ سوشل میڈیا پر آن لائن ہراساں کئے جانے اور ڈرانے دھمکانے کے واقعات کی  رپورٹ جاری کردی ہے۔

میٹا حکام گلوبل  سیفٹی ہیڈ اینٹی گون ڈیوس اور پراڈکٹ مینجر امیت بھٹا اچاریہ کی طرف سے جاری کئے گئے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ فیس بک پر ہر دس ہزار ویوز میں 14 تا 15 پندرہ مرتبہ جبکہ انسٹا گرام پر ہر دس ہزار ویوز میں 5 تا 6 مرتبہ ہراسانی اور دھمکی آمیزمواد دیکھا گیا ۔ کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ فیس بک صرف اس مواد کودھمکی آمیز تصورکرتی ہے جس کی صارف باقاعدہ رپورٹ کرے۔ جبکہ پالیسی خلاف ورزی پر 9.2 ملین دھمکی آمیز پوسٹوں کو ہمیشہ کے لئے فیس بک سے ہٹا دیا گیا۔

یادرہے فیس بک یا میٹا کو وسل بلورفرانسیس ہاؤگن  کے اس بیان کہ فیس بک دنیا بھر میں مزید پرتشدد بدامنی کو ہوا دے گی کیونکہ اس کا الگورتھم انتشار پیدا کرنے والے مواد کی تشہیرہی کے لیے ڈیزائن کیاگیا ہے پر شدید تنقید اور محاسبے کا سامنا ہے۔انھوں نے وال اسٹریٹ جرنل کی تحقیقات میں اورنوعمرلڑکیوں کےانسٹاگرام کے ضرررساں استعمال سے متعلق دستاویزات فراہم کی تھیں۔