(ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما ، وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ حلف نامے سے یہ چیزیں نکالیں کہ کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کیا جائےگا۔ آزادکشمیرکی کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں۔وہ الیکشن میں حصہ لینے کو تیار نہیں ہیں۔
سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے سینیٹر رانا ثنااللہ نے بتایا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی 2023 میں سامنے آئی تھی۔ رانا ثنا اللہ نے کہا، تب ان کا مطالبہ تھا کہ کشمیر کے عوام کو گندم کی قیمت پر سبسڈی دی جائے اوربجلی کی پیداواری قیمت کشمیریوں سے وصول کی جائے۔ انہوں نے تب مظفرآباد میں دھرنا دیا تھا، ان کے مطالبے پورے کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی طرف سے 30 ارب روپےکا پیکج دیا گیا۔ بجلی کے منصوبےکے لئے دس ارب روپے رقم دی گئی۔ آزاد کشمیر میں 3 روپے فی یونٹ بجلی دی جارہی ہے، باقی ملک کے عوام اسی بجلی کی قیمت 48 روپے فی یونٹ دے رہے ہیں۔ ان کے مطالبات پورے کیے لیکن وہ شکریہ ادا کرنے کی بجائے مزید 38 مطالبات لے آئے۔
وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی دو دن ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت کی، ان کے پیش کئے ہوئے 38 مطالبوں میں سے 37 پر حکومت نے ان سے تحریری معاہدہ کر لیا۔ ان کا ایک مطالبہ تھا کہ مہاجرین کی نشستیں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ختم کردی جائیں۔ انہوں کہا کہ مہاجرین کی نشستوں پر منتخب ہونے والے ارکان کو وزیر نہ بنایا جائے۔ ہم نے انہیں کہا سیٹیں ختم کرنا انتظامی اختیار نہیں ہے، کشمیری مہاجرین کو حق رائے دہی سےکیسے محروم کیا جائے۔ رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ اس مؤقف کے جواب مین یکجہتی کمیٹی والوں نے خود کہا کہ کمیٹی بنادیں ہمیں بھی لوگوں کو مطمئن کرنا ہے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سب کچھ مان لئے جانے کے بعد بھی اب دانستہ طور پر انہوں نے 9 جون کا لانگ مارچ کا الٹی میٹم دیا۔ انہیں جنوری میں معلوم تھا کہ 4 اگست سے پہلے انتخابات ہونا ہیں۔ ان کا پلان تھا کہ الیکشن نہ ہونے دیا جائے۔ ابھی ہم دوبارہ ان سے مذاکرات کرنےگئے۔ انہیں ایک ایک بات کا حساب دیا۔
رانا ثنا اللہ نے انکشاف کیا کہ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ حلف نامے سے یہ چیزیں نکالیں کہ کشمیرکا پاکستان کے ساتھ الحاق کیا جائےگا، ان سے کہا کہ ریفرنڈم میں یہ سوال رکھ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ہمیں ریفرنڈم منظور نہیں، ا سے کہا اے پی سی بلالیں، انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی جماعتوں کو نہیں مانت۔ انہوں نے اس معاملہ کو آزاد کشمیر کی قانون سازاسمبلی کو بھیجنے سے بھی انکار کیا۔ اس کی بجائے انہوں نے کہا ہم 9 جون کو مظفر آباد آئیں گے۔ آزاد کشمیرسپریم کورٹ نے کہا کہ موجودہ اسمبلی اس معاملے پرقانون سازی نہیں کرسکتی، سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی ایگزیکٹو فیصلے سے یہ سیٹیں ختم نہیں کی جاسکتیں۔
رانا ثنا اللہ نےسینیٹ کو مزید بتایا کہ ان لوگوں نے وہاں پر فائرنگ کی، وہ لشکرکشی کر رہے ہیں، بھارت کے چینلز سب خبریں دے رہے ہیں کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں، وہ بتارہے ہیں کہ "بھارت کے سندور 2 آپریشن" کا کیا چل رہا ہے.رانا ثنا اللہ نے کہا، قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، پاکستان کے لوگوں نےکشمیرکی آزادی کے لیے قربانیاں دی ہیں، کشمیرکی آزادی کی بنیاد ہی الحاق پاکستان تھی، پاکستان ہر قیمت پر آزادکشمیر کا تحفظ کرےگا، شرپسند بھارت کے آلہ کاربن کرخرابی کرتے ہیں تو قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ رانا ثنا اللہ نے گلگت بلتستان الیکشن کے حوالے سے بتایا کہ گلگت بلتستان الیکشن میں65 فیصد لوگوں نے ووٹ دیا، وہاں سارا دن کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا، پوری دنیا نے کہا کہ شفاف اور فری انتخابات ہوئے ہیں۔