پھلوں کی افادیت بڑھانی ہے تو ان باتوں پرلازمی عمل کریں

Fruits
Fruits

(ویب ڈیسک)طبی ماہرین کہتے ہیں کہ عام  غذاؤں کے ساتھ  پھلوں اور خُشک میوہ جات کا استعمال بھی لازمی کرنا چاہیے جن کے استعمال سے انسان خود کو توانا، تروتازہ اور فرحت بخش محسوس کرتا ہے لیکن ہر غذا کھانے کا ایک  وقت ہوتا ہے جس میں اُس غذا کے کھانے سے مکمل مستفید ہوا جا سکتا ہے۔ 

 نارنگی کو دن میں کسی بھی وقت کھایا جاسکتا ہے لیکن اسے صبح ناشتہ میں خصوصاً خالی پیٹ کھانے سے گریز کریں، صبح نہار منہ نارنگی کھانے سے جسم میں الرجی پیدا ہوسکتی ہے۔

کیلا ایک ریشہ دار غذا ہے، ناشتہ میں یا دن کے کسی بھی حصہ میں کیلا کھانا آپ کے ہاضمہ کے عمل کو تیز کرسکتا ہے  البتہ شام یا رات میں کیلا کھانا نقصان کا سبب بن سکتا ہے لہٰذا اسے بھی صبح ناشتے میں کھانا مفید ہے۔

صبح نہار منہ تربوز کھانا مثبت قرار دیا جاتا ہے، صبح نہار منہ تربوز کھانا انسانی جسم کے لیے بہت مفید ہے کیونکہ تربوز میں لائکوپین کی زیادہ مقدار موجود ہے جو آنکھوں اور دل کے لیے موثر ہے، موسم گرما کے اس پھل کے صبح نہار منہ استعمال سے صحت بہتر اور پانی کی کمی پوری ہوتی ہے ۔ 

 بادام میں مینگنیز، وٹامن ای، پروٹین، فائبر، اومیگا 3 اور اومیگا 6 فیٹی ایسڈ بھرپو مقدار میں پایا جاتا ہے، بادام کھانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ انہیں طاق شمار کر لیا جائے اور  رات میں ہمیشہ بھگو کر  پھر صبح نہار منہ چھلکے کے بغیر کھایا جائے۔

  دن بھر میں خشک میوہ جات کا استعمال آپ کو بے وقت بھوک سے بچائے گا اور بے وقت نہ کھانے سے  وزن میں کمی بھی واقع ہوگی۔خیال رہے کہ خشک میوہ جات جیسے بادام، پستہ، اخروٹ وغیرہ بھرپور غذائیت کے حامل ہوتے ہیں لہٰذا انہیں رات میں کھانے سے پرہیز کرنا چا ہیے۔

سیب میں فائبر وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جو جسم میں پانی کو اپنی جانب کھینچ کر ایک جیل تشکیل دیتا ہے جو غذا کے ہضم ہونے کا عمل سست کرتا ہے۔روزانہ ایک سیب سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس ہوتا ہے اور بلڈ، شوگر لیول متوازن جبکہ انسولین کی افزائش مثبت مقدار میں ہوتی ہے ۔اس کے علاوہ صبح کے اوقات میں روزانہ ایک سیب کھانے سے فالج سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے، ایک ڈچ تحقیق کے دوران 10 برسوں تک 20 ہزار سے زائد رضاکاروں میں پھلوں اور سبزیوں کے استعمال کا جائزہ لیا گیا، نتائج سے معلوم ہوا کہ سرخ سیب کھانے کی عادت رکھنے والے رضاکاروں میں فالج کا خطرہ 9 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔