ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے جیل سے رہائی کے بعد ایک شہری کو دوبارہ غیر قانونی طور پر تحویل میں لینے کے معاملے پر سی سی ڈی ڈیفنس لاہور پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس محمد امجد رفیق نے سائلہ مقصوداں بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ گلفام علی کو اوکاڑہ جیل سے رہائی کے بعد سی سی ڈی ڈیفنس کے اہلکاروں نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں لے لیا۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ گلفام علی کو 27 جون 2026 کو شام 7 بج کر 50 منٹ پر اوکاڑہ جیل سے رہا کیا گیا تھا۔
عدالت کے روبرو پیش کیے گئے ویڈیو شواہد میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رہائی کے فوراً بعد شلوار قمیض میں ملبوس چند افراد نے جیل کے باہر گلفام علی کو زبردستی پکڑ کر ایک ٹویوٹا ہائی لکس گاڑی میں بٹھا لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ بادی النظر میں ویڈیو شواہد اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ شہری کو جیل سے رہائی کے فوراً بعد تحویل میں لیا گیا۔دوسری جانب سی سی ڈی ڈیفنس لاہور کے انسپکٹر اختر علی نے عدالت میں رپورٹ پیش کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ گلفام علی کو 2 جولائی 2026 کو ایف آئی آر نمبر 326/2026 کے سلسلے میں پولیس اسٹیشن رینالہ خورد، ضلع اوکاڑہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔
عدالت نے سی سی ڈی کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ پیش کی گئی رپورٹ دستیاب ویڈیو شواہد سے مطابقت نہیں رکھتی اور بادی النظر میں غلط معلوم ہوتی ہے۔ جسٹس محمد امجد رفیق نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں جھوٹی رپورٹ پیش کرنا اور کسی شخص کو قانونی اختیار کے بغیر حراست میں رکھنا قابلِ سزا جرم ہے۔
عدالت نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اوکاڑہ کو ہدایت کی کہ 27 جون 2026 کو جیل کے باہر گلفام علی کو تحویل میں لینے والے ذمہ دار سی سی ڈی اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق ایف آئی آر درج کی جائے اور اس حوالے سے پندرہ روز کے اندر لاہور ہائیکورٹ میں تعمیل رپورٹ جمع کرائی جائے۔عدالت کے اس حکم کو غیر قانونی حراست، پولیس کے اختیارات کے استعمال اور عدالت میں درست معلومات فراہم کرنے کے حوالے سے ایک اہم عدالتی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔