ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے ایل ڈی اے کی جانب سے ماتحت عدالتوں کے الاٹمنٹ سے متعلق فیصلوں کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کرنے پر ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق پر سخت برہمی کا اظہار کیا،،,عدالت نے ڈی جی ایل ڈی اے کو ہائیکورٹ میں زیرالتوا مقدمات کی پڑتال کا حکم دے دیا
جسٹس راحیل کامران شیخ نے ایل ڈی اے کی نگرانی سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق کے طرزِ عمل پر شدید برہمی کا اظہار کیا ،سماعت کے دوران ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق اپنے لاء افسران کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اور مختلف صفائیاں پیش کرتے رہے تاہم وہ عدالت کو مطمئن نہ کر سکے۔ ۔جسٹس راحیل کامران شیخ نے ڈی جی ایل ڈی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایل ڈی اے شہریوں کے ساتھ آخر کیا کر رہی ہے؟ بیس بیس سال بعد اٹھ کر شہریوں کی جائیدادوں کو متنازعہ بنا دیا جاتا ہے۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ ’’ایل ڈی اے کے جاری کردہ الاٹمنٹ لیٹر کی کیا کوئی قانونی حیثیت بھی ہے؟کیا یہ الاٹمنٹ لیٹر شہریوں کے حقوق کو کوئی تحفظ فراہم کرتا ہے یا نہیں؟‘‘ جسٹس راحیل کامران شیخ نے مزید ریمارکس میں کہا کہ ایل ڈی اے نچلی عدالتوں میں نہ تو بروقت جواب جمع کرواتی ہے اور نہ ہی کوئی اعتراض اٹھاتی ہے، لیکن جب دو عدالتوں کے فیصلے خلاف آ جائیں تو سیدھا ہائیکورٹ کا رخ کر لیا جاتا ہے۔ایسی غیر سنجیدہ قانونی چارہ جوئی کو بھاری جرمانوں کے ساتھ خارج ہونا چاہیے۔
عدالت نے ڈی جی ایل ڈی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ’’آپ کو عدالت میں اس لیے طلب کیا گیا ہے کیونکہ یہ تمام کیسز آپ کی منظوری سے فائنل ہوتے ہیں۔‘‘
جسٹس راحیل کامران شیخ نے ڈی جی ایل ڈی اے کو ہدایت کی کہ اسی نوعیت کے تمام سول مقدمات کا سنجیدگی سے ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور غیر ضروری و غیر سنجیدہ مقدمات پر نظرِ ثانی کرکے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔سماعت کے دوران ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق نے جواب دیا’’عدالت کو جان کر خوشی ہوگی کہ ایل ڈی اے نے ایک لاکھ ساٹھ ہزار جائیدادوں کی چھان بین شروع کر رکھی ہے، جن میں سے نوے ہزار جائیدادوں کی چھان بین مکمل ہو چکی ہے۔ چھان بین کے بعد جن جائیدادوں کے حوالے سے تنازعات سامنے آئیں گے، ان کی ذمہ داری ایل ڈی اے خود لے گی اور اس حوالے سے تمام ڈیٹا ایل ڈی اے کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔
اس پر جسٹس راحیل کامران شیخ نے ریمارکس دیے کہ ’’یہ آپ کا شہر ہے، آپ ہی اس کے مالک ہیں۔ الاٹمنٹ کے باوجود شہری ہی ان جائیدادوں کے اصل مالک ہیں۔‘‘
عدالت نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’الاٹمنٹ لیٹر کی بنیاد پر شہریوں نے ان جائیدادوں پر گھر بنا لیے، اب ان بے چارے شہریوں کا کیا قصور ہے جو بے سروسامانی کی حالت میں وہاں رہ رہے ہیں؟‘‘
جسٹس راحیل کامران شیخ نے ڈی جی ایل ڈی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا:’’میں یہاں آپ کا خطبہ سننے نہیں بیٹھا، بلکہ عملی اقدامات چاہتا ہوں۔‘‘عدالت نے ڈی جی ایل ڈی اے کو ہدایت دی کہ ایک کمیٹی تشکیل دے کر اس نوعیت کے تمام زیرِ التوا مقدمات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور خبردار کیا کہ’’کم از کم اس عدالت میں اگر کوئی غیر سنجیدہ مقدمہ آیا تو اسے بھاری جرمانے کے ساتھ خارج کیا جائے گا۔‘‘
ڈی جی ایل ڈی اے نے ہائیکورٹ میں زیرِ التوا مقدمات کی پڑتال کے لیے دو ہفتوں کی مہلت کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی