ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہراسانی کے عذاب نے اتھلیٹ خاتون کو موت کے منہ میں دھکیل دیا

ہراسانی کے عذاب نے اتھلیٹ خاتون کو موت کے منہ میں دھکیل دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: مسلسل ہراسانی  اور ذہنی تشدد کے عذاب سے عاجز آ کر کبڈی کی ہونہار کھلاڑی نے خودکشی کر لی۔  کرن کی خودکشی ک کی وجہ بننے والے اذیت ناک حقائق سامنے آ گئے۔

غریب فیملی سے تعلق رکھنے والی نوجوان اتھلیٹ کرن کو  ایک بلیک میلر نے  نوکری دلوانے کا لالچ دے کر اسے شادی کے جال میں پھنسایا، شادی کرنے کے لئے خوشامدیں کیں اور اچھی نوکری دلوانے کے سبز باغ دکھائے، شادی کے بعد ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے لگا اور ہراساں کرنے لگا۔

اپنی فیملی کے لئے ملازمت کی ضرورت مند خاتون اتھلیٹ  شادی کے نام پر دھوکہ سےعاجز آ گئی تو کل اس نے گھر میں خود کشی کر لی۔
کرن کبڈی کی ماہر کھلاڑی تھی۔ طالب علمی کے دنوں میں اس نے یونیورسٹی، ریاستی اور قومی سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا، تاہم مالی مشکلات نے اس کی صلاحیتوں اور امیدوں کو پوری طرح خاک میں ملا دیا۔
کرن کی ہراساں کرنے والے کے ذہنی تشدد سے موت کا سانحہ مہاراشٹر کے ناگپور واقع ساونیر علاقے میں ہوا ہے۔ یہاں مالیگاؤں (ٹاؤن) کی 29 سالہ خاتون کبڈی کھلاڑی کرن سورج دھاڑے نے ذہنی استحصال اور دھوکہ دہی سے عاجز آکر خود کشی کر لی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جراثیم کش دوا کھانے کے بعد اس کی حالت بگڑ گئی تھی جس کے بعد اسے اسپتال لے جایا گیا جہاں اس نے دم توڑ دیا۔ اس واقعہ سے پورے علاقے میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔
’اے بی پی نیوز‘ کے مطابق کرن کا خاندان مالی طور پر کمزور تھا۔ اس نے بی اے تک تعلیم پوری کی تھی اور فوج، پولیس، ہوم گارڈ، محکمہ دفاع اور دیگر سرکاری عہدوں پر مسلسل ملازمت تلاش رہی تھی لیکن اسے کامیابی نہیں ملی۔ اسی دوران سوپنل جے دیو لامگھرے نامی نوجوان نے اسے نوکری دلانے کا لالچ دیا اور شادی کی پیشکش کر دی۔ نوکری کی امید میں کرن نے سوپنل سے شادی کر لی۔
شادی کے کچھ ہی وقت بعد کرن کو احساس ہوا کہ اسے دھوکہ دیا گیا ہے۔ سوپنل نہ صرف اسے نوکری دلانے سے پیچھے ہٹ گیا بلکہ اسے ذہنی طور پر ہراساں کرنے لگا۔ وہ تعلقات قائم کرنے کا دباؤ بنانے لگا، فون پر اس کے ساتھ بدسلوکی کرتا تھا اور انکار کرنے پر اسے طلاق دینے کی دھمکی بھی دیتا تھا۔ آخر کار ہراسانی سے تنگ آ کر کرن نے فیملی کورٹ میں طلاق کی درخواست دائر کی لیکن اس کی پریشانی ختم نہیں ہوئی۔
کرن مسلسل ہراسانی اور مالی دباؤ کی وجہ سے ذہنی طور پر ٹوٹ چکی تھی۔ کام نہ ملنے کی وجہ سے اس نے ساونیر میں ڈاکٹر انوج جین کے ڈینٹل کلینک میں ملازمت شروع کر دی تھی، لیکن سوپنل کی ہراسانی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ کرن نے نوجوان کے بھیجے گئے تمام پیغامات اپنے موبائل فون میں محفوظ کر لیے تھے۔ جمعرات کی صبح تقریباً 8:30 بجے اس نے گھر میں کیڑے مار دوا کھا لی۔ جب اس کے گھر والوں کو اس کا علم ہوا تو اسے فوری طور پر ساونیر کے سرکاری اسپتال لے گئے۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد کرن کی حالت زیادہ بگڑ گئی اور اسے ناگپور کے میڈیکل اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اتوار کوعلاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔
کرن کے اہل خانہ کی شکایت کی بنیاد پر ساونیر پولیس نے سوپنل جے دیو لامگھرے کے خلاف تعزیرات ہند (بی این ایس) کی دفعہ 108 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ملزم فی الحال فرار ہے اور پولیس اس کی تلاش کر رہی ہے۔ پولیس نے مکمل تفتیش کے لیے موبائل فون پیغامات اور دیگر شواہد بھی قبضے میں لے لیے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کرن دھاڑے کبڈی کی ماہر کھلاڑی تھی۔ اپنے طالب علمی کے دنوں میں اس نے یونیورسٹی، ریاستی اور قومی سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ تاہم مالی مشکلات، بے روزگاری اور شادی کے نام پر دھوکہ دہی نے اس کی صلاحیتوں اور امیدوں کو پوری طرح خاک میں ملا دیا۔