ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا فوجداری مقدمات میں ملزمان کے حقوق سے متعلق ایک نہایت اہم اور اصولی فیصلہ جاری

لاہور ہائیکورٹ کا فوجداری مقدمات میں ملزمان کے حقوق سے متعلق ایک نہایت اہم اور اصولی فیصلہ جاری
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے فوجداری مقدمات میں ملزمان کے حقوق سے متعلق ایک نہایت اہم اور اصولی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی بھی ملزم کو ٹرائل کے آغاز سے قبل مقدمے سے متعلق تمام دستاویزات کی فراہمی لازمی ہے، اور اس کے بغیر کارروائی آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس تنویر احمد شیخ نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر کی حیثیت بھی حاصل ہو گئی ہے۔ عدالت نے ایڈیشنل سیشن جج لاہور کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ملزم کو شکایت کنندہ کی جانب سے جمع کرائی گئی تمام دستاویزات تک رسائی حاصل کرنا اس کا بنیادی قانونی حق ہے۔عدالت کے روبرو یہ معاملہ اس وقت آیا جب ایڈیشنل سیشن جج نے ملزم کی جانب سے دستاویزات کی فراہمی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ تاہم ہائیکورٹ نے اس فیصلے کو قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کی شفافیت اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ملزم کو تمام شواہد اور ریکارڈ تک مکمل رسائی دینا ضروری ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ دستاویزات کی فراہمی کسی قسم کی رعایت یا سہولت نہیں بلکہ ایک لازمی قانونی حق ہے، اور اس کے بغیر منصفانہ ٹرائل ممکن نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر ملزم کو مکمل ریکارڈ فراہم نہ کیا جائے تو وہ اپنے دفاع کی مؤثر تیاری نہیں کر سکتا، جو انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 10-A کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل ہے، اور اس حق کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ ملزم کو مقدمے کی تمام متعلقہ دستاویزات بروقت فراہم کی جائیں۔
آخر میں عدالت نے ملزم شوکت علی کی درخواست منظور کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ تمام دستاویزات فراہم کریں تاکہ ٹرائل قانون کے مطابق شفاف انداز میں آگے بڑھ سکے۔ یہ فیصلہ فوجداری نظامِ انصاف میں شفافیت، انصاف اور ملزمان کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Ansa Awais

Content Writer