ویب ڈیسک: حکومتِ پاکستان نےاسلام آباد میں امن مذاکرات میں شرکت کے لیے آنے والے غیر ملکی مہمانوں کو بڑی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نئی ویزا پالیسی کے تحت تمام شرکاء کو "ویزا آن ارائیول" کی سہولت دی جائے گی تاکہ ان کی آمد کو آسان اور تیز بنایا جا سکے۔
حکام نے تمام ایئر لائنز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اس ایونٹ کے شرکاء کو بغیر کسی رکاوٹ کے بورڈنگ کی اجازت دیں۔
مزید برآںاسلام آباد کے ایئرپورٹس پر مسافروں کی رہنمائی کے لیے خصوصی فیسلیٹیشن ڈیسک بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن سیکشن آفیسر (ویزا) آغا حاشر محمود خان کے دستخط سے جاری کیا گیا۔
دوسری جانب، امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کے پیش نظر سیکیورٹی اور انتظامی معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکیورٹی پلان، غیر ملکی وفود کی آمد اور دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ مہمانوں کے لیے عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جائیں، اور اس موقع کو پاکستان کے لیے اعزاز قرار دیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیکیورٹی کے پیش نظر ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کیا جائے گا اور صرف متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت ہوگی۔
مزید برآں وزارت داخلہ میں ایک خصوصی کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے، جو تمام سیکیورٹی اور انتظامی امور کی نگرانی کرے گا۔
حکام کے مطابق یہ اقدامات اس اہم سفارتی موقع کو کامیاب اور محفوظ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری کی توجہ اس وقت پاکستان پر مرکوز ہے۔