ویب ڈیسک : امریکی ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی 105 سالہ خاتون نے اپنی طویل زندگی کا راز بتایا ہے۔
بلنڈا ویڈوک کا ماننا ہے کہ ان کی طویل زندگی خدان کی مہربانی ہے مگر انکی چند عادات نے بھی انہیں صحت مند رکھنے میں کردار ادا کیا ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ 'خدا نے مجھے اتنے برسوں تک زندہ رکھا، مگر میں ہمیشہ سے ایتھلیٹک تھی، پوری زندگی ٹینس کھیلتے اور سوئمنگ کرتے ہوئے گزاری جبکہ ہمیشہ اچھی غذا کا استعمال کیا'۔
انہوں نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں اور ان کے بچوں کو اچھی غذا کھانے کا مشورہ دیتی ہوں مگر وہ پھر بھی جنک فوڈ کھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 'ہم اب بہت تیز رفتار زندگی گزار رہے ہیں، ماضی میں ہم اکٹھے بیٹھنے کا وقت نکالتے تھے اور اکٹھے کھانا کھاتے تھے'۔
بلنڈا ویڈوک کی پیدائش 1921 میں ہوئی تھی اور فلوریڈا کے علاقے ویسٹ پام بیچ میں بچپن گزارا، جبکہ ویسٹ پام بیچ میں 15 ڈالرز فی ہفتہ کے عوض ایک بینک میں کام کیا۔
وہاں وہ ماضی کے بڑے ہالی وڈ اسٹارز کلارک گیبل اور دیگر سے ملاقات کرچکی ہیں جبکہ نوجوان جان ایف کینیڈی سے بھی ملی۔
انہوں نے 1946 میں کوسٹ گارڈ چارلس ویڈوک سے شادی کی اور ٹیکساس منتقل ہوگئیں۔
اس عمر میں بھی بلنڈا ویڈوک ذہنی طور پر ہوشیار ہیں اور اپنی زندگی کے بارے میں کہانیاں سنانا پسند کرتی ہیں۔
حال ہی میں ان کی 105 ویں سالگرہ ہوئی جس کی تقریب کے دوران وہاں متعدد دوستوں اور خاندان کے اراکین سے ان کی ملاقات ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ہر صبح جب میں بیدار ہوتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ ایک اور دن خدا میں اب بھی یہاں کیوں ہوں؟ ہر دن ایک نعمت ہے'۔
انہوں نے بتایا کہ بڑھاپے کا سب سے اداس کن پہلو لوگوں کو ذہنی ہوشیاری کو کھوتے دیکھنا ہے اور خدا کی مہربانی سے وہ اس سے محفوظ ہیں۔
بلنڈا ویڈوک نے بتایا کہ کچھ سادہ عادات نے بھی ان کی لمبی زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 'لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور ہر چیز میں اعتدال کا خیال رکھیں جبکہ اپنے جسم کا خیال بھی رکھیں'۔