ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چھوٹے صوبے بن گئے تو پٹرول سستا ہو جائے گا؟

عامر رضا خان

چھوٹے صوبے بن گئے تو پٹرول سستا ہو جائے گا؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ہم معصوم قوم کے نمائندے ہیں کبھی کبھی مجھے اس پر پیار بھی آتا ہے، کبھی غصہ بھی، ہم اتنے معصوم ہیں کہ شاید ہی دنیا میں ہم جیسی معصوم قوم کوئی اور ہو، ہم سوئی سے ہاتھی شکار کرنا چاہتے ہیں اور ہاتھی سے کڑھائی کا کام لینا چاہتے ہیں.

 آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں کیا بول رہا ہوں لیکن یہ سب میرے دماغ میں اُس وقت آیا جب ایک معصوم قوم کے معصوم نمائندے یعنی میرے ہی بھائی بند نے مجھ سے یہ معصومانہ سوال کیا کہ کیا چھوٹے صوبے بننے سے پٹرول سستا ہوجائے گا؟ کیا جواب دیتا کچھ دیر خاموش رہا اور پھر پلٹ کر سوال کیا کہ سناؤ آپ کے حلقے کا ایم این اے اور ایم پی اے صحیح کام کر رہا ہے، وہ بولا نہیں جی، دیکھو ہمارا سارا علاقہ اندھیرے میں ڈوبا رہتا ہے، اسٹریٹ لائٹ ہی نہیں جلتیں، جگہ جگہ پانی کی پائپ لائن خراب ہے اور تو اور کوڑا اٹھانے والے بھی نہیں آتے۔

 میں نے کہا بھائی ایم پی اے یا ایم این اے کا تو کام پالیسی بنانا، قانون سازی کرنا اور ملکی معاملات کو دیکھنا ہے۔ یہ تو اُس کا کام نہیں، وہ بولا پھر کس کا ہے؟ میں نے کہا یہ تو نچلی سطح کے کام ہیں جو نچلی سطح پر ہی حل کیے جا سکتے ہیں، اس کے لیے چھوٹے انتطامی یونٹس بنانا ہوں گے آپ کے مسائل کے حل کے لیے خود آپ کو اپنے نمائندے منتحب کرنا ہوں گے، بڑی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے خول میں بند ہیں۔ نئی سوچ اور نئے زاویے سے کام کرنا ہو گا،  کیا آپ نہیں چاہتے کہ آپ کا ایم پی اے پورے پنجاب کا نہیں صرف وسطی پنجاب کا سوچے، آپ کے مسائل کے بارے میں بات کرے، اُسے آپ کے بچوں کی صحت، تعلیم، بنیادی سہولیات اور تجارت کا سوچنا چاہیے۔ اُسے سوچنا چاہیے کہ آپ کے روزگار میں بہتری کے لیے کیا کِیا جا سکتا ہے؟ ذرائع آمدن کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟ کیا پالیسی بنائی جائے کہ آپ کا چھوٹا انتطامی یونٹ یا صوبہ دیگر صوبوں سے بہتر ہو، وہ بولا کیوں نہیں اگر ایسا ہو تو کیا ہی بات ہے کہ اسمبلی میں صرف میرے گرد موجود علاقوں کو ہی زیر بحث لایا جائے، میرے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے، میرے بچوں کے مستقبل کا سوچا جائے، لوہا گرم تھا میں نے اچانک اُس کا سوال دہرا دیا کیا چھوٹے صوبوں کے بننے سے پٹرول سستا ہو گا؟  اب وہ جواب دے رہا تھا بولا نہیں شاید اس کا تو تعلق عالمی تیل منڈیوں سے نہیں؟ یہ میرے آپکے بس کی بات ہیں نہیں ہے۔

اس کے اپنے سوال کا جواب خود اُس کی زبانی سُن کر مجھے احساس ہوا کہ ہمیں انتطامی یونٹس کی بات اِن معصوم لوگوں کو سمجھانا چنداں مشکل نہیں ہے۔ ہمیں صرف اس قوم کو یہ سمجھانا ہے کہ سوئی سے کڑھائی اور ہاتھی سے بھاری وزن اٹھانے کی بات کرنی ہے۔ ہمیں چھوٹے انتظامی یونٹس کے روپ میں ایک ایسا نظام ملنے جا رہا ہے جس میں دولت کا ارتکاذ ممکن ہی نہیں۔ اسے پھیلنا پھلنا اور پھولنا ہو گا، خوشحالی ہو گی روزگار ملے گا اور کاروبار چلے گا تو پیٹرول کی مہنگائی کی تکلیف بھی کم ہو گی، مسائل بھی جلد حل ہوں گے اور مقامی حکومتیں بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گی۔ لاہور، بہاولپور، نوشکی، خضدار، قلعہ عبداللہ، کشمور، لاڑکانہ، پشاور یا کراچی سب کے پاس یکساں مواقع ہوں گے تو بہتر سے بہتر کرنے کی دوڑ بھی آگے بڑھے گی۔ صوبائیت اور لسانیت کے نام پر نفرتوں کا خاتمہ ہو گا اور ملک ترقی کرے گا۔

 نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر