حکومت بدل گئی مگر بیوروکریسی نہ بدل سکی

حکومت بدل گئی مگر بیوروکریسی نہ بدل سکی


(قیصر کھوکھر) پاکستان میں نئی حکومت بن چکی ہے اور نیا پاکستان بنایا جا رہا ہے لیکن بیوروکریسی وہی پرانی چل رہی ہے جو شہباز شریف کے ساتھ دس سال سے کام کر رہی تھی۔ وہی پرانے چہرے، وہی پرانی ٹرانسفر پوسٹنگ کی پالیسی چل رہی ہے۔ نئے پاکستان کا شورو غل ہے اور اس وقت تبدیلی آ چکی ہے ، نئے منصوبے بن رہے ہیں، نئے ڈیم بنانے کی بات ہو رہی ہے، لیکن بیوروکریسی میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی۔ فارسی میں کہتے ہیں ’’زمین جنبند نہ جنبند گل محمد‘‘بیوروکریسی جس طرح نئی حکومت کے آنے سے پہلے تھی وہی آج ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آ ئی، حالانکہ عمران خان کی حکومت نے تبدیلی کا نعرہ لگا کر عوام سے ووٹ حاصل کئے ہیں۔

قانون کے مطابق ہر بیوروکریٹ کا ہر پانچ سال بعد بین الصوبائی تبادلہ ضروری ہوتا ہے۔وفاقی حکومت نے اپنے طور پر ایک چھوٹی سی کوشش کی ہے کہ بیوروکریسی کا چہرہ بدلا جائے اور ہر صوبے میں نئی بیوروکریسی بھیجی جائے جس کے لئے وفاقی حکومت نے پنجاب کے چھ سیکرٹری اور تین کمشنرز سمیت متعدد اعلیٰ افسران کو پنجاب سے باہر تبدیل کیا ہے اور کئی افسران کو پنجاب میں لایاگیا ہے، لیکن پنجاب حکومت اس فیصلے میں روڑے اٹکا رہی ہے اور وفاقی حکومت کو لکھا ہے کہ فی الحال موجودہ حالات میں پنجاب ان اافسران کوریلیو نہیں کر سکتا ہے ۔

 اگر پنجاب افسران کو دوسرے صوبوں میں نہیں بھیجے گا اور دوسرے صوبوں سے افسران پنجاب نہیں آئیں گے تو تبدیلی کیسے آئے گی۔ پھر تو وہی بات ہے کہ مسلم لیگ ن کی بیوروکریسی کا ہی تسلسل برقرار رہے گا۔ اگر دوسرے صوبوں سے افسران پنجاب آئیں گے تو میرٹ اور قابلیت وہی ہوگی۔ موجودہ چیف سیکرٹری پنجاب اکبر حسین درانی پنجاب سے باہر سے آئے ہیں لیکن ان کی اوپن ڈور پالیسی اور فائل ورک کی ہر کوئی تعریف کرتا ہے۔ عوام اس وقت تبدیلی کے خواہاں ہیں ۔ پالیسی بنانا اور پالیسی پر عمل کرنا بیوروکریسی کا کام ہے۔ پنجاب کی افسرشاہی کو اب یہ بات ماننا پڑے گی کہ انہیں اپنا پرانا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہو گا۔ نگران دور نے شہباز شریف کی افسر شاہی کو جاری رکھا اور اب وہی پرانی بیوروکریسی چل رہی ہے۔ نئے تعینات ہونے والے آئی جی پولیس محمد طاہر ایک فرض شناص، ایماندار اور محنتی افسر ہیں۔ لیکن یہ بھی ماضی میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران آر پی او گوجرانوالہ، آر پی او فیصل آباد اور ایڈیشنل آئی جی کے طور پر کام کر چکے ہیں۔

شہباز دور کی بیوروکریسی کی جانب سے نئی حکومت کو ایک مزاحمت کا سامنا ہے ۔ ڈی سی چکوال غلام صغیر شاہد اور ڈی سی راجن پور اللہ دتہ وڑائچ دونوں حمزہ شہباز کے ساتھ ایوان وزیر اعلیٰ میں کام کر چکے ہیں ،ان دونوں ڈپٹی کمشنروں کا پی ٹی آئی کے ایم این اے کے خلاف خط لکھنے سے پی ٹی آئی کی حکومت کو ایک سبکی ہوئی ہے اور پی ٹی آئی کے ارکاناسمبلی دفاعی پوزیشن پر چلے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی سرکاری دفاتر تک رسائی محدود ہو گئی ہے اور پی ٹی آئی کی حکومت کو دفاعی بیانات دینے پڑ گئے ہیں ۔ اب پی ٹی آئی حکومت نہ تو یہ ڈی سی تبدیل کر سکتی ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی ایکشن لے سکتی ہے۔

 ڈی پی او پاکپتن کا ایشو بھی بڑھ چکا ہے اور اب حکومت پنجاب نے گزشتہ روز سابق ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کی خدمات پنجاب سے سرنڈر کر دی ہیں۔پنجاب کے تمام ڈی پی او ، تمام ڈی سی، کمشنرز اور سیکرٹری اور آر پی او وہی افسران ہیں جو گزشتہ دس سال سے زائد عرصہ سے ایک ہی سیاسی جماعت کی حکومت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ حکومت نے چارج لیتے ہی پرانی بیوروکریسی سے ہی کام چلانا شروع کر دیا ہے، جس کے اثرات ڈی سی چکوال اور ڈی سی راجن پور کے خطوط کی صورت میں آیا ہے۔ حکومت دیگر صوبوں سے افسران پنجاب لانے پر تیار نہیں اور نہ ہی پنجاب کے موجودہ افسران کو چھوڑنے پر تیار ہے۔ صوبے سے باہر تبدیل ہونے والے افسران کو کبھی کوئی بہانہ لگا کر روک لیا جاتا ہے اور کہیں محرم کا بہانہ بنایا جاتا ہے۔

 آخر پی ٹی آئی کی حکومت بیوروکریسی میں تبدیلیاں کب تک لائے گی اور کب مسلم لیگ ن کی بیوروکریسی کو تبدیل کر کے نئے چہروں کو سامنے لایاجائے گا۔ تاکہ جس طرح حکومت کی تبدیلی آئی ہے اس طرح بیورو کریسی کی بھی تبدیلی لائی جائے۔ سندھ ، بلوچستان اور کے پی کے سے ہونہار افسران کو پنجاب لایا جائے اور پنجاب سے پرانی بیوروکریسی کی بھی روٹیشن لائی جائے اور انہیں بھی دوسرے صوبوں میں کام کرنے کا تجربہ ہو اور اس طرح بین الصوبائی ہم آہنگی بھی پیدا ہوگی اور ان افسران پر جی ٹی روڈ پر کام کرنے کا الزام بھی ختم ہو سکے گا۔چیف سیکرٹری پنجاب اکبر حسین درانی ایک نیا چہرہ ہیں، باقی سب پرانے ہی ہیں، پی ٹی آئی کی حکومت نے اس بیوروکریسی پر ہوم ورک نہیں کیا اور وزیر اعظم کے مشیر ارباب شہزاد کو پنجاب میں کام کرنے کا تجربہ نہیں ۔ نہ ہی وہ اندرونی طور پر پنجاب کی بیوروکریسی کو جانتے ہیں۔

 سندھ میں روایتی قسم کی وڈیرہ قسم کی بیوروکریسی ہے ۔ کے پی کے اور بلوچستان میں بیوروکریسی اوپن ڈور پالیسی کو فالو کرتے ہیں، جبکہ پنجاب کی بیوروکریسی کی گردن میں سریا ہے، جو عوام کو دکھ درد میں اب بھی اضافہ کر رہا ہے۔ آج بھی تحصیل ، ضلع کی سطح پر اور تھانہ کی سطح پرعوام کے لئے دروازے بند ہیں۔ عوام کو دفاتر کے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے چکر لگانا پڑتے ہیں۔اب یہ پی ٹی آئی کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیوروکریسی میں کیا تبدیلی لاتی ہے اور اگر وہ پولیس کا کے پی کے ماڈل لاتے ہیں تو انہیں بیوروکریسی میں بھی کے پی کے ماڈل لاناہونگے ۔ پنجاب سول سیکرٹریٹ میں آج بھی عوام کو داخلہ سے روکا جاتا ہے اور دفاتر میں آج بھی افسران موجود نہیں ہوتے ۔کوئی سائل دادرسی کیلئے دفتر پہنچ ہی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ صاحب بہادر اجلاس میں ہیں۔ ہیلتھ اور ایجوکیشن کے محکموں کی ابتر صورتحال ہے۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:سٹی@10, 25 ستمبر 2018

سب سے پہلے پی ٹی آئی کی حکومت دفاتر اور محکموں تک عام آدمی کو رسائی دے اور افسر شاہی کو یہ باور کرائے کہ وہ عوام کے نوکر ہیں اور عوام کے ٹیکسوں سے ہی انہیں تنخواہ ملتی ہے۔ جب تک یہ بیوروکریسی اپنے آپ کو عوام کی خادم اور نوکر نہیں سمجھے گی بے چارے عوام کو افسر شاہی سے مسائل بھی درپیش رہیں گے اور معاشرے میں ایک جمود بھی قائم رہے گا جب تک پی ٹی آئی کی حکومت اس جمودکو نہیں توڑتی اوربیوروکریسی میں تبدیلی نہیں لاتی، نئے پاکستان کاخواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکتا۔