ویب ڈیسک: آئندہ مالی سال کے بجٹ میں درآمدی گاڑیاں سستی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ درآمدی گاڑیوں پر ٹیکسوں میں کمی کی جائے اور ان کی کمرشل امپورٹ کھولی جائے۔
وفاقی بجٹ 2 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، جس میں ایف بی آر نے نئی درآمدی گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی میں 5 سے 30 فیصد تک کمی کی تجویز دی ہے۔ یہ کمی 850 سی سی کی چھوٹی گاڑیوں سے لے کر 1801 سی سی تک کی بڑی گاڑیوں پر لاگو ہوگی۔
ذرائع کے مطابق اس وقت درآمدی گاڑیوں پر 50 سے 100 فیصد تک ڈیوٹی عائد ہے، جبکہ استعمال شدہ گاڑیوں پر ڈیوٹی نسبتا زیادہ رکھی جائے گی۔ حکومت 5 سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دینے پر غور کر رہی ہے اور بتدریج 10 سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دینے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔
مزید برآں، نئی 5 سالہ انرجی وہیکل پالیسی کے تحت ملک میں ای-وہیکلز کو فروغ دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے.