علی رامے:صوبے میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے حکومت نے نئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) جاری کر د ئیے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی منتقلی روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
حکومت نے انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کو پیٹرولیم معاملات کی نگرانی کے لیے مرکزی فوکل ڈیپارٹمنٹ مقرر کیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کے لیے خصوصی کنٹرول سسٹم قائم کیا جائے گا۔
تمام آئل ڈپو کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے اسٹاک کی تفصیلی رپورٹ صوبائی کنٹرول روم کو فراہم کریں، جس میں اوپننگ اسٹاک، موصول ہونے والا فیول، فروخت اور کلوزنگ اسٹاک کی معلومات شامل ہوں گی۔
اسی طرح تمام ڈپٹی کمشنرز کو اپنے اضلاع میں پیٹرول پمپس پر فیول کی دستیابی کی روزانہ نگرانی کا حکم دیا گیا ہے۔ انتظامیہ پیٹرول پمپس پر سرکاری نرخوں پر عملدرآمد، فیول کی دستیابی اور رش کی صورتحال کا بھی جائزہ لے گی۔ ضلعی انتظامیہ کو ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی منتقلی روکنے کے لیے فوری کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ڈسٹرکٹ پیٹرولیم مانیٹرنگ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے، جس میں پولیس، انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ، سول ڈیفنس، پیرا اور آئل کمپنیوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر فیول کی طلب اور رسد کی صورتحال کا جائزہ لے گی اور کمی کی صورت میں فوری رپورٹ کے ساتھ حل کیلئے اقدامات کرے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق آئل ٹینکرز اور فیول لے جانے والی گاڑیوں کی نقل و حرکت کی سخت نگرانی کی جائے گی۔ ٹینکرز کے ڈلیوری دستاویزات چیک کر کے فیول سپلائی کی تصدیق کی جائے گی جبکہ چیک پوسٹس پر بھی نگرانی بڑھا کر مکمل ریکارڈ رکھا جائے گا۔ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
مزید برآں، پیٹرول پمپس اور آئل ڈپو کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی موبائل ایپ متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جسے پی آئی ٹی بی اور اربن یونٹ مشترکہ طور پر تیار کریں گے۔ اس ایپ کے ساتھ ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بھی بنایا جائے گا جبکہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی اور نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی شفاف اور بروقت فراہمی کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ بحران سے بچاؤ کرنا ہے۔
اس سلسلے میں فیول کی سپلائی بحال رکھنے اور غیر قانونی ترسیل روکنے کے لیے فیول ٹرانسپورٹیشن ریگولیشن کے اہم احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب جاری کردہ مراسلے کے مطابق تمام ٹرانسپورٹ وہیکلز اور خصوصی آئل ٹینکرز کی باقاعدہ چیکنگ کی جائے گی۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کہاں سے خریدی جا رہی ہیں اور کہاں منتقل کی جا رہی ہیں، اس کی تفصیلی جانچ پڑتال کی جائے۔ اس کے علاوہ فیول شپمنٹ کے ڈیلیوری کاغذات کی بھی سخت جانچ کی جائے گی۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ تمام انسپیکشن سرگرمیوں کا مکمل ریکارڈ مرتب کر کے ویگا ایپ پر اپ لوڈ کیا جائے تاکہ نگرانی کے عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ تیل بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت کو چیک پوائنٹس خصوصاً بارڈر چیک پوسٹس پر مانیٹر کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق غیر قانونی ترسیل میں ملوث گاڑیوں کو بھاری جرمانوں کے ساتھ بند کر دیا جائے گا جبکہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ڈرائیورز اور متعلقہ کمپنیوں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔
پنجاب حکومت نے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے کے لیے الیکٹرک بسوں کے استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی ہے۔ مراسلے کے مطابق لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ تمام اضلاع میں ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز ان ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی پابند ہوں گی تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں شفافیت برقرار رہے اور کسی بھی ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔