ملک اشرف : سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی قلت ، سہولیات کی عدم دستیابی کیخلاف درخواست پر سماعت ، ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کے لاء افسر کو جواب جمع کروانے کے لیے 25 مارچ تک مہلت دے دی۔
جسٹس خالد اسحاق نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست پر سماعت کی ۔درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈوکیٹ پیش ہوئے۔اور عدالت کو بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں میں جان بچانے والی ادویات اور آپریشن کے لیے ضروری سامان دستیاب نہیں ۔ مریضوں کو مارکیٹ سے ادویات اور طبی سامان خود خریدنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا مریضوں کے علاج کے لیے پنجاب حکومت نے 679 ارب روپے مختص کیے ، اس کے باوجود مریضوں کو ہسپتالوں میں سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
بچوں کے دل کے آپریشن اور کلینک ان ویلز کے پراجیکٹ کا اعلان تو ہوا تھا پر مکمل عمل نہیں ہوا۔ مزید برآں درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں صحت کارڈ کے ذریعے مریضوں کا علاج ہو رہا ہے مگر پنجاب میں یہ نظام غیر مؤثر ہو چکا ۔ استدعا کی کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔