ویب ڈیسک:سندھ کابینہ نے پنشن اصلاحات کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اہم اجلاس میں سندھ کابینہ نے پنشن اصلاحات کی منظوری دے دی۔
کابینہ نے لیبرڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ کم از کم اجرت کانوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اجرت کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے قبل تمام قانونی تقاضے بھی پورے کیے جائیں۔
سندھ کابینہ کے اجلاس میں زرعی انکم ٹیکس رولز میں ترمیم کرتے ہوئے زمین داروں کو ایس آر بی کے ساتھ رجسٹریشن کا پابند کرنے، سکھر اور حیدرآباد میں انڈسٹریل انکلیو بنانے کے علاوہ تھر کول سے چھوڑ تک ایک سو پانچ کلومیٹر ریلوے لائن بچھانے کے لئے فنڈز کی بھی منظوری دی گئی۔
سندھ کابینہ کو بتایا گیا کہ تھرکول سے چھوڑکرایک سوپانچ کلومیٹر ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ 42 ارب روپے مالیت کا ہے اگر وفاقی حکومت نے 7 ارب روپے مختص کیے تو سندھ حکومت بھی 7 ارب روپے دے گی۔
صوبائی کابینہ نے حب ڈیم کی مرمت کے لیے واٹر بورڈ کو ایک ارب روپے فراہم کرنے کے علاوہ ڈی ایچ اے کو ڈملوٹی سے 36 کلومیٹر لائن بچھانے کے منصوبہ کے لیے واٹر بورڈ کو ڈملوٹی پروجیکٹ کے لئے دس اعشاریہ چھپن ارب روپے بلاسود قرض دینے کی منظوری دی۔