ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کانگریس کے صدر نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی ’’فارغ‘‘ قرار دیدی

کانگریس کے صدر نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی ’’فارغ‘‘ قرار دیدی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)بھارت کی بڑی جماعت کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے الزام لگایا کہ نریندر مودی حکومت نے غیر وابستگی اور اسٹریٹجک خودمختاری کو نقصان پہنچایا، چین اور امریکہ کے معاملے میں خارجہ پالیسی کمزور اور متضاد نظر آ رہی ہے۔حالیہ برسوں میں حکومت کے فیصلوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی ایک مستحکم سمت کے بجائے تضادات کا شکار ہو چکی ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق  کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی قیادت والی حکومت نے بھارت کی خارجہ پالیسی، خاص طور پر غیر وابستگی اور اسٹریٹجک خودمختاری کے اصولوں کو گہرا نقصان پہنچایا ہے۔ جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تفصیلی پوسٹ میں کھڑگے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کا یہ دعویٰ کہ وہ ملک کو جھکنے نہیں دیں گے، زمینی حقیقت سے بالکل متصادم ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں حکومت کے فیصلوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی ایک مستحکم سمت کے بجائے تضادات کا شکار ہو چکی ہے۔ کھڑگے کے مطابق پہلی مثال چین سے متعلق پالیسی ہے، جہاں پانچ سال قبل عائد کی گئی پابندیوں کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی پہلے ہی وادی گلوان کے واقعہ کے بعد چین کو کلین چٹ دے چکے ہیں، جس سے بہادر بھارتی فوجیوں کی قربانیوں کی توہین ہوئی۔ کانگریس صدر نے کہا کہ اب چینی کمپنیوں کیلئے سرخ قالین بچھانے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ حکومت کا سخت رویہ محض نعرے تک محدود تھا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جس ’سرخ آنکھ‘ کی بات کی جاتی تھی، وہ چین کے سامنے بے اثر دکھائی دے رہی ہے۔

  کانگریس کے صدرکھڑگے نے دوسری مثال امریکہ کے حوالے سے پیش کی۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روزانہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی درآمد پر تبصرے کر رہے ہیں، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس خاموشی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت دباؤ کے سامنے جھک رہی ہے، جو ایک خودمختار خارجہ پالیسی کے منافی ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ انکی جماعت کے نزدیک خارجہ پالیسی کی بنیاد قومی مفاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ وقتی سیاسی مصلحتوں پر۔ ان کا الزام تھا کہ مودی حکومت نے غیر صف بندی اور اسٹریٹجک خودمختاری جیسے بنیادی اصولوں کو کمزور کر دیا ہے۔ کھڑگے کے مطابق موجودہ خارجہ پالیسی ایک بے قابو پنڈولم کی طرح جھول رہی ہے، جس کے منفی اثرات براہ راست بھارتی عوام پر پڑ رہے ہیں۔