سٹی42: پرتگال کے شہر لزبن میں اسماعیلی مسلم کمیونٹی کے امام پرنس کریم آغا خان کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی۔
پرنس کریم الحسینی سر آغا خان چہارم کی تدفین آج مصر کے شہر اسوان میں کی جائےگی۔ سر آغا خان کی وفات پر ہفتہ 8 فروری کو پاکستان میں قومی سطح پر سوگ کا دن منایا گیا۔ پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے بھی لزبن میں پرنس کریم آغا خان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

وزیر خزانہ نے اسماعیلی کمیونٹی کے 50 ویں امام پرنس رحیم آغا خان سے ملاقات کی اور سر آغا خان چہارم کی وفات پر صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی عوام کی جانب سے ان سے اظہار تعزیت کیا۔

پرنس کریم آغا خان کے انتقال پر آج پاکستان میں یومِ سوگ منایا گیا، ملک میں اور بیرونِ ملک پاکستانی سفارت خانوں میں قومی پرچم سرنگوں رہا۔
پرنس کریم آغا خان 88 برس کی عمر میں 4 فروری کو انتقال کرگئے تھے، پرنس کریم آغا خان کا انتقال پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ہوا۔
پرنس کریم آغا خان 1936 میں پیدا ہوئے، پرنس کریم آغا خان کے 3 بیٹے رحیم آغاخان، علی محمد آغا خان اور حسین آغا خان اور ایک بیٹی زہر ا آغا خان ہیں۔ انہوں نے نیروبی میں بچپن گزارا، ہارورڈ سے اسلامی تاریخ میں ڈگری لی۔
پرنس کریم آغا خان اسماعیلی کمیونٹی کے 49 ویں امام تھے، انہوں نے 20 سال کی عمرمیں 1957 میں امامت سنبھالی تھی۔
پرنس کریم آغا خان نے آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے ذریعے دنیا کے مختلف خطوں میں فلاحی اقدامات کیے، انہیں مختلف ممالک اوریونیورسٹیوں کی جانب سے اعلیٰ ترین اعزازات اور اعزازی ڈگریوں سے نوازا گیا۔
پرنس کریم نے پاکستان کی ترقی کے لیے بھی مثالی خدمات انجام دیں، مثالی خدمات پر انہیں نشان پاکستان اور نشان امتیاز سے نوازا گیا۔