سٹی42: صدیوں سے سماجی ترقی کا امام فرانس ایک بار پھر دنیا پر سبقت لے گیا۔ دم توڑتی ہوئی اعلیٰ انسانی قدر کو بچانے کے لئے فرانس نے الگ سے ایک وزارت قائم کر دی۔
فرانس کی عمانوئل میکروں حکومت ٹروتھ منسٹری (وزارتِ سچائی) تشکیل دے رہی ہے۔ صدر میکروں نے انکشاف کیا ہے کہ نئی وزارت یہ پتہ کیا کرے گی کہ "کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ.‘‘
فرانس کی ایمانوئل میکروں حکومت سچ بولنے کی مہم کو فروغ دینے کے لیے جلد ہی ایک الگ وزارت کی تشکیل دے رہی ہے۔ اس کا نام ’ٹروتھ منسٹری‘ (وزارتِ سچائی) ہو سکتا ہے۔ ملک کے صدر میکروں نے اپنی ایک پبلک سپیچ میں اس بات کا اشارہ دیا ہے۔ امیکروں نے کہا کہ ’’یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ۔‘‘ میکروں کا نکتہ نطر یہ ہے کہ اس دور میں سچ اور جھوٹ کو پہچاننا مشکل ہو گیا ہے۔
برٹش آؤٹ لیٹ ’دی ٹیلی گراف‘ کے مطابق عمانوئل میکروں کے ناقد ان کے اس بیان کو میڈیا اور سوشل میڈیا پر کنٹرول کرنے ک کا نیا آلہ ایجاد کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔
مخالفوں نے یہ اختراع کیا ہے کہ دراصل میکروں کی حکومت سچ جھوٹ کا نتارا کرنے والی وزارت کے نام پر ادیب جارج آرویل کے تصور کو آگے بڑھا رہی ہے۔ جار ج آرویل نے اپنے ناول ’1984‘ میں ’ٹروتھ منسٹری‘ کا ذکر کیا تھا۔
ناقد کچھ بھی کہیں، بہرحال، میکروں کی نئی ’وزارت سچائی‘ کا ایک بنیادی کام "فیک نیوز" کو ڈی ٹیکٹ کرنا اور اس کو بروقت روکنا ہو گا۔ کیوننکہ فی الوقت فیک نیوز معاشرہ کو اور معاشرہ مین کسی بھی شخصیت، ادارہ، بڑی سے بری طاقت کو برباد کر دینے کی غیر معمولی طاقت رکھتی ہے۔ فیک نیوز کی طاقت دراصل یہ ہے کہ اس کی شناخت کرنا، فیک کو فیک قرار دینا اور لوگوں سے یہ منوا لینا کہ فیک فیک ہے، انتہائی پیچیدہ، سست رفتار کام ہے جب کہ فیک نیوز کا پھیلنا اب سیکنڈوں کا کام بن گیا ہے۔ جو بات جتنی فیک ہے وہ اتنی ہی تیزی سے پھیلائی جاتی ہے اور بطاہر نارمل انسان اس فیک نیوز کو پھیلانے کے کام مین عمومواً احمق ثابت ہو رہے ہیں۔
اب فرانس میں ٹروتھ منسٹری بنا کر اس کے تحت ایک نظام تیار کیا جائے گا، جو فرضی کہانی پر مبنی فیک نیوز پر نگرانی رکھے گا۔ یہ سسٹم فرضی/ فیک نیوز ک کو بروقت ڈیٹیکت کرے گا اور اس کے خلاف سچائی کا زوروشور سے پرچار کرے گا حتی کہ سب کو پتہ چل جائے کہ کیا فیک ہے۔
سچائی کی وزارت ’روزانہ کی بریفنگ‘ کی بنیاد پر کام کرے گی۔ حالانکہ وزارت کے ڈھانچہ کو لے کر حکومت نے اب تک کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ نہ ہی اس کے فیک نیوز پکڑنے کے جغرافیائی حدوں اور دوسری حد بندیوں کا کوئی ذکر سامنے لائی ہے۔ یہ منسٹری کیا ہو گی، یہ تو سامنے آ ہی جائے گا، بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ یہ میڈیا، سوشل میڈیا کو کنگھالنے کی صلاحیت رکھنے والا ایک نطام چلائے گی جو شاید آرٹیفیشل انتیلی جنس سے بھی مسلح ہو گا۔
صدر عمانوئل میکروں کی حکومت نے البتہ آج مخالفوں پر صدر عمانوئل میکروں کے بیان کو توڑ مروڑ کر پھیلانے (اسے بھی فیک نیوز ہی بنا دینے) کا الزام عائد کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ میکروں کا میڈیا پر کنٹرول کرنے کا دور دور تک کوئی ارادہ نہیں ہے۔
پس منظر
فیک نیوز کا ناگ ڈس تو دنیا بھر مین سب کو ہی رہا ہے لیکن دوسرے معاشرے اس ناگ کو کِیلنے کے لئے بروقت اقدام نہین کر پا رہے، فرانس چونکہ سماجی ترقی کا واقعی عالمی امام ہے، اس لئے 2021 میں فرانس میں فیک نیوز کے حوالے سے ایک سروے کیا گیا۔ اس سروے میں 50 فیصد سے زیادہ لوگوں نے کہا کہ ان کے سامنے ہر ہفتہ کوئی نہ کوئی فیک خبر آ رہی ہے۔ 60 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک دفعہ ان فیک خبروں کی چپیٹ میں آ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ ساڑھے 6 کروڑ آبادی والے فرانس میں فیک خبروں کا ٹرینڈ کافی خطرناک مانا جا رہا ہے۔ اس کو روکنے کے لیے حکومت ’ٹروتھ منسٹری‘ بنانے پر غور کر رہی ہے۔ حالانکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت اس کے ذریعہ میڈیا کو کنٹرول کرے گی۔ اپوزیشن لیڈر لی پین کا کہنا ہے کہ ’’فیک نیوز کے نام پر مین سٹریم میڈیا کو حکومت کو ہراساں کر سکتی ہے۔ ہم اس کی پرزور مخالفت کریں گے۔‘‘
فرانس سے کہیں زیادہ وہ معاشرہ فیک نیوز سے ڈسے جا رہے ہیں جہاں جہالت زیادہ ہے اور کریٹیکل تھِنکِنگ کا رجحان اور عادت کم ہے۔ وہاں صورتحال زیادہ نقصان دہ ہے جہاں منظم گروہوں نے فیک نیوز کو اپنا ہتھیار بنا رکھا ہے۔ پاکستان بھی ان معاشروں میں شامل ہے جہاں فیک نیوز منظم گروہوں کا ہتھیار بنی ہوئی ہے اور ریاست اور معاشرہ دونوں یکساں مار کھا رہے ہیں۔