شادی کیلئے نوجوان تین سال تک قید کاٹتا رہا

شادی کیلئے نوجوان تین سال تک قید کاٹتا رہا
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: شادی کیلئے جیل جانا پڑے گا،عدالت نے انوکھی شرط رکھ دی ۔ سندھ ہائیکورٹ نے پولیس والوں کی جانب سے نوجوان کو شادی کا جھانسہ دے کر قید کیے جانے کے معاملے پر متاثرہ کو معاوضہ دینے کا حکم دے دیا۔

گھوٹکی پولیس کی جانب سے ایک نوجوان ’عبداللہ‘ کو یہ جھانسہ دیا گیا کہ وہ چند ہفتوں کیلئے محراب شر نامی عادی مجرم کی جگہ چند ہفتوں کیلئے جیل چلا جائے تو اس کی شادی محراب شر کی بیٹی سے کرادی جائے گی۔ پولیس نے نوجوان عبداللہ کو محراب شر کے طور پر عدالت میں بھی پیش کیا اور اسے تین سال تک قید کیے رکھا۔

عدالت کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد پولیس اہلکاروں کے جھانسے میں آکر تین سال جیل میں قید کاٹنے والے شخص کو رہائی نصیب ہوئی۔ منگل کے روز سندھ ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ متاثرہ شخص کو معاوضہ دیا جائے۔ عدالت نے اے آئی جی لیگل کو حکم دیا ہے کہ اعلیٰ افسران سے مشاورت کرکے آئندہ سماعت پر آگاہ کیا جائے کہ متاثرہ شخص کو کتنا معاوضہ دیا جائے گا۔

یاد رہے امریکا میں بھی ایک انوکھی شادی ہوئی ،امریکی ریاست کیلیفورنیا کی رہائشی اس 29سالہ لڑکی کا نام لورین جمینیز ہے جس 20نومبر کو اپنے 27سالہ منگیتر پیٹرک ڈیلگیڈو کے ساتھ شادی ہونے والی تھی لیکن اس سے چند دن پہلے لورین کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا۔

رپورٹ کے مطابق کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد لورین کو قرنطینہ میں جانا تھا جس کے باعث شادی یقینی طور پر ملتوی ہو جاتی مگر لورین نے فیصلہ کیا کہ وہ کسی بھی طور شادی ملتوی نہیں ہونے دے گی اور اس فیصلے میں پیٹرک نے بھی اس کا ساتھ دیا اور مقررہ وقت پر ان کی شادی ہو گئی مگر اس طرح کہ لورین گھر کی بالائی منزل پر واقع کمرے کی کھڑکی میں بیٹھ گئی جبکہ دولہا نیچے زمین پر کھڑا ہو گیا اور اوپر اپنی دلہن کی طرف دیکھتا رہا۔ اسی طرح دونوں نے ایک دوسرے کا زندگی بھر ساتھ نبھانے کا عہد کیا اور میاں بیوی بن گئے۔ اس عہدوپیمان کے وقت دونوں نے 30فٹ لمبا ’ربن‘ پکڑ رکھا تھا۔