ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

گوجرانوالہ چھوڑنے پر والد سے کئی تھپڑ کھائے، سچل افضل کا دلچسپ انکشاف

گوجرانوالہ چھوڑنے پر والد سے کئی تھپڑ کھائے، سچل افضل کا دلچسپ انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:اداکار سچل افضل نے اپنی ذاتی زندگی، بچپن، تعلیم، دوستیوں اور مختلف شہروں میں رہنے کے تجربات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسان کی شخصیت، فیصلوں اور مستقبل کی تشکیل میں دوستوں اور محفل کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے، اس لیے دوستوں کا انتخاب ہمیشہ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔

سچل افضل نے بتایا کہ ان کا بچپن ایک بڑے اور بھرے پُرے خاندان میں گزرا، جہاں تقریباً 20 سے 25 کزنز تھے۔ وہ سب اکٹھے کھیلتے، فلمیں دیکھتے اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے تھے، جس کی وجہ سے بچپن کی بہت سی خوشگوار یادیں آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہیں۔

اداکار کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ کزنز بڑے ہوئے تو سب اپنی اپنی مصروفیات میں الجھ گئے۔ کوئی کالج چلا گیا، کسی نے ملازمت شروع کردی اور کچھ لوگ دوسرے شہروں میں منتقل ہوگئے۔ اس تبدیلی نے انہیں اداس کیا اور اس وقت ان کی خواہش تھی کہ کوئی ایسی جگہ ہو جہاں پورا خاندان ایک ہی محلے میں آباد ہو اور سب ایک دوسرے کے قریب رہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ انہیں سمجھ آئی کہ زندگی میں ایسا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا، تاہم فاصلے بڑھنے کا مطلب رشتوں کا خاتمہ نہیں۔ فون کالز، ملاقاتوں اور خاندانی تقریبات کے ذریعے لوگ ایک دوسرے سے جڑے رہ سکتے ہیں اور پرانی یادیں بھی دوبارہ تازہ ہوتی رہتی ہیں۔

سچل افضل نے اپنی تعلیم اور شہر سے دوری کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے میٹرک گوجرانوالہ سے کیا، بعد ازاں پنجاب کالج میں تعلیم حاصل کی اور گریجویشن کے لیے لاہور منتقل ہوگئے۔ ان کے لیے گوجرانوالہ چھوڑنا آسان فیصلہ نہیں تھا کیونکہ وہاں ان کے قریبی دوست موجود تھے اور وہ اپنا شہر چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

ان کے بقول والد کا خیال تھا کہ اگر انہیں سی ایس ایس یا مستقبل میں کوئی بڑا مقصد حاصل کرنا ہے تو گوجرانوالہ سے باہر نکلنا ضروری ہے۔ اس معاملے پر گھر میں سختی بھی ہوئی اور انہیں والد سے کئی تھپڑ کھانے پڑے، تاہم بالآخر وہ لاہور منتقل ہوگئے۔

اداکار نے بتایا کہ لاہور آنے کے ابتدائی دو تین ماہ ان کے لیے خاصے مشکل رہے اور وہ شدید اداس رہتے تھے۔ ان کے بیشتر پرانے دوست ڈاکٹر بننے کی سمت جا رہے تھے، جس کی وجہ سے انہیں نئے ماحول میں خود کو ایڈجسٹ کرنے میں وقت لگا۔

سچل افضل کے مطابق اسی دوران انہیں اندازہ ہوا کہ خاندان کے ساتھ ساتھ دوستیاں بھی انسان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر انسان کی شناخت بھی اس کے دوستوں اور صحبت سے بنتی ہے، جبکہ اس کے فیصلوں پر بھی دوستوں کا اثر پڑتا ہے، چاہے وہ فیصلے درست ہوں یا غلط۔

انہوں نے کہا کہ انسان کی محفل اور دوستیاں کسی نہ کسی حد تک اس کی زندگی کی سمت طے کرتی ہیں۔ اس لیے دوست بناتے وقت احتیاط ضروری ہے، کیونکہ کسی شخص سے تعلق صرف جذبات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے رویے، سوچ، فیصلوں اور مستقبل پر بھی براہ راست یا بالواسطہ اثر ڈال سکتا ہے۔

لاہور اور کراچی کے فرق پر بات کرتے ہوئے سچل افضل نے کہا کہ دونوں شہروں کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔ ان کے مطابق ڈرامہ انڈسٹری کے بیشتر پروجیکٹس کی شوٹنگ کراچی میں ہوتی ہے، جبکہ فیشن اور کمرشل شوٹس کے لیے لاہور میں زیادہ کام کیا جاتا ہے۔

انہوں نے لاہور میں ہونے والی ترقی اور بہتر انفرا اسٹرکچر کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہر کی سڑکوں اور بنیادی سہولیات میں بہتری سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ کراچی میں بھی اسی انداز کی بہتری دیکھنے کو ملے۔

سچل افضل نے کراچی کی سڑکوں کی صورتحال میں آنے والی بہتری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں بار بار سڑکیں کھودنے، پائپ نکالنے اور دوبارہ ڈالنے کا سلسلہ شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ترقیاتی کاموں کے لیے پہلے سے مناسب فنڈز مختص کیے جانے چاہئیں تاکہ عوام کی روزمرہ زندگی بار بار متاثر نہ ہو۔