70 کی دہائی میں آنکھ کھولی اور سیاسی سمجھ بوجھ آنے لگی تو تمام سیاسی جماعتوں سے ایک ہی نعرہ سنا کرتے تھے۔ وہ نعرہ بلا تفریق رنگ و نسل، عمر و عہدہ، فرقہ و مذہب زبان زد عام تھا، کیا پیپلز پارٹی، کیا مسلم لیگ، جمعیت علما اسلام، جماعت اسلامی، جمعیت علما پاکستان، ایم کیو ایم غرض تمام وہ جماعتیں جو عملی سیاست میں متحرک تھیں ایک ہی نعرہ لیکر آتی تھی اور وہ نعرہ تھا ’’چہرے نہیں نظام کو بدلو‘‘ لیکن وہ نعرہ ہی کیا جو ایفا ہوجائے۔
شاعر نے وعدہ لکھا تھا نعرہ میں نے خود لکھا ہے، ہر جماعت کو اقتدار ملا کچھ کو دو تہائی تو کسی کو اتحاد کی صورت لیکن اقتدار کے ایوانوں میں سب نے اپنے حصے کا مزہ لوٹا، کوئی پیچھے نہ رہا لیکن نعرہ نعرہ ہی رہا کسی نے نظام نہ بدلا،ہاں چند سال میں چہرے بدلتے ضرور دیکھے۔
یہ دیکھا کہ کیسے غریب، غریب سے غریب تر اور امیر، امیر سے امیر تر ہوا، اقتدار کا ہما جس کے سر بھی بیٹھا اُس کے ساتھ نئے خاندان، نئے جاگیردار اور نئے صعنتکار آئے اپنوں کو نوازنے اور عوام کو نچوڑنے کا عمل جاری رہا،بقول فیض احمد فیض
یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
غریب کی رات لمبی اور امیر کی سحر برے کی رسی مانند دراز ہوتے دیکھی، 22 خاندان جس کا نعرہ لگایا گیا تھا بڑھ کر آبادی کے ساتھ 66 خاندان ہوئے لیکن چہرے بدلے نطام نہ بدلا، اب شاید قدرت کو ہم غریبوں پہ ترس آیا ہے کہ پہلی مرتبہ جی ہاں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ چہروں کو نہیں نطام کو بدلنے کی بات کی جارہی ہے، پہلی مرتبہ کہا جارہا ہے کہ
سلطانیِ جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے، مٹا دو
پاکستان کی تاریخ میں 1947 سے لیکر 2026 میں پہلی مرتبہ نظام کو بدلنے کی بات ہوئی تو وہ چہرے جو نام، قوم، صوبائیت بدل بدل کر اقتدار میں آتے تھے نطام کی تبدیلی کو اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگے ہیں،یہ سب تو وہ ہیں جو نظام کو بدلنا چاہتے تھے تو کیا یہ صرف نعرہ تھا؟ آج جب ملک میں نئے انتطامی یونٹس کے ساتھ گڈ گورننس یا اصلاح عوام کی بات ہو رہی ہے تو یہ چہرے بدلنے والے اپنے اصل روپ میں سامنے آگئے ہیں، چلو اسی بہانے ہمیں بھی پتہ چلا کہ سیاسی جماعتوں کو نظام بدلنے کی تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ کیا خاندانوں کی سیاست کا زور ٹوٹ جائے گا؟ کیا پسماندہ علاقوں کے نام پر این ایف سی ایوارڈ لیکر اپنے اللے تللوں پر خرچ نہیں کرنے دیا جائے گا؟ کیا نئے انتطامی یونٹس میں عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف، تعلیم، صحت اور بنیادی انسانی سہولیات نہیں ملیں گی؟ کیا ہمارا اُن سیاسی جماعتوں سے سوال نہیں بنتا کہ کراچی اور گھوٹکی میں ترقی کا سفر میلوں دوری کا نہیں زمانوں کی دوری پر کیوں ہے؟ کیا لاہور اور راجن پور میں ایک جیسی بنیادی سہولیات میسر ہیں؟ کیا کھیت سے کھلیان تک کسان کو اُس کی محنت کا معاوضہ مل رہا ہے؟ کیا خیبر سے کراچی تک سب اچھا ہے؟ کیا ملک میں یونہی دوریاں، دہشتگردی اور غربت بڑھتی رہے گی؟ کیا ہم یونہی نظام کو نہیں چہروں کو بدلتا دیکھتے رہیں گے؟ کب تک آخر کب تک؟
وقت آگیا ہے کہ ملک میں انتظامی یونٹس یا چھوٹے صوبوں کے نام پر کچھ بھی نیا انتظام کیا جائے،عوام کو تو اس کا حق دیا جائے، راجن پور والا اپنے بنیادی حق کے لیے لاہور کیوں آئے؟ کشمور والا کراچی، کرک والا پشاور اور گوادر والا کوئٹہ کیوں جائے؟
بولیں کہ اب بولنا بنتا ہے، نظام کے بدلنے کا وقت آگیا ہے،وقت آگیا ہےغریب ہاری، بھٹہ مزدور، دہقان اور دکاندار جہاں ہے اسے وہیں بنیادی انسانی سہولیات میسر آئیں وقت آگیا ہے کہ انتطامی یونٹس بنا کر ملک کی آبادی کو سکھ کا سانس لینے کا موقعہ فراہم کیا جائے، سب نے بہت عرصہ اپنے اپنے لیڈروں کو بُت بنا کر اُس کی پرستش کرالی اب دھرتی ماں کے بچوں کو اُس کا بنیادی حق دینے کا وقت ہے، آزادی کا وقت ہے ترقی کا یہ آخری موقع ہے اگر ہم نے یہ بھی گنوا دیا تو ہماری زندگیوں کا اندھیرا گہرا مزید گہرا ہوتا چلا جائے گا۔