ٹریفک قوانین کی خلاف وزری کرنے والے ہوجائیں ہوشیار، بڑا فیصلہ ہوگیا

ٹریفک قوانین کی خلاف وزری کرنے والے ہوجائیں ہوشیار، بڑا فیصلہ ہوگیا

( علی اکبر ) پنجاب کابینہ نے ٹریفک چالان کے جرمانوں میں اضافہ کی منظوری جبکہ سابق دور حکومت کی سستی روٹی اتھارٹی کو ختم کر دیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کا 18 واں اجلاس ہوا، جس میں وزراء، مشران اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات میاں اسلم اقبال نے بتایا کہ کابینہ نے پنجاب لوکل گورنمنٹ فنانس کمیشن کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ کمیشن 13 ممبران پر مشتمل ہوگا جس کے سربراہ صوبائی وزیر خزانہ ہوں گے۔

کمیشن صوبائی محاصل کی تقسیم کا فارمولہ وضع کرے گا جبکہ پنجاب کابینہ نے گریڈ 1 سے 4 تک کی منظور شدہ خالی آسامیوں پر بھرتی کی پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے تمام محکموں کو ہدایت کی ہے کہ کو اپنی ضروریات کے مطابق گریڈ1 سے 4 تک کی بھرتیوں کیلئے کیسز وزیراعلیٰ کو بھجوائیں۔

کابینہ کے اجلاس میں سستی روٹی اتھارٹی بند کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ سستی روٹی سکیم میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا سپیشل آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں انسداد ڈینگی کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں رجسٹریشن ایکٹ 1908 کی رجسٹریشن فیس کے جدول میں ترامیم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ترامیم کے بعد ای سٹیمپنگ سکیم کا دائرہ کارمزید بڑھایا جائے گا۔

اجلاس میں پراونشل موٹر وہیکلز ترمیمی بل 2019 کے بارے میں ٹریفک مینجمنٹ ریفارم کے تحت مختلف اقدامات کی منظوری دی گئی جس کے تحت ٹریفک چالان کے جرمانہ میں مختلف اضافہ کیا جائے گا۔

کابینہ اجلاس میں پنجاب بارڈر ملٹری پولیس اور بلوچ لیویز سروس رولز 2009 میں ترامیم کی منظوری دی گئی جبکہ راولپنڈی میں یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کا قیام، بہاولپور سے لودھراں تک سپیڈو بسوں کے آپریشنز کے حوالے سے 6 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز کے اجراء اور پنجاب ڈی مارکیشن، نمبرنگ اینڈ نیمنگ آف ویلج اینڈ نیبرہڈ رولز 2019 کے مسودے کی منظوری دی گی۔ اجلاس میں پنجاب پنشن فنڈ کی مینجمنٹ کمیٹی کے نان آفیشل ممبر کے طور پر افتخار تاج میاں کی تقرری کی توثیق کر دی گئی۔