سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی کرسی خطرے میں !!!

سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی کرسی خطرے میں !!!

(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ میں سی سی پی او  لاہور  کی تعیناتی کے خلاف درخواست سماعت کے لئے مقرر کردی گئی ہے۔چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان سی سی پی او عمر شیخ کے خلاف درخواست پر 9 نومبر کو سماعت کریں گے ۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان سی سی پی او کے خلاف درخواست پر کل صبح نو بجے کے بعد ارجنٹ کیس کی حیثیت سے سماعت کریں گے ۔ ایڈووکیٹ نعمان امانت نے سی سی پی او عمر شیخ کی تعیناتی کوہائیکورٹ میں چیلنج کررکھا ہے۔درخواست میں پنجاب حکومت اور سی سی پی او عمر شیخ سمیت دیگر کوفریق بنایاگیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولیس آرڈر2002کےتحت صرف گریڈ 21 کا پولیس آفیسر ہی سی سی پی او لاہور تعینات کیا جاسکتا ہے۔موجودہ سی سی پی او گریڈ 20 کے پولیس آفیسر ہیں ۔جنہیں گریڈ 21 کے عہدے پر تعینات کیاگیا۔محکمہ پولیس کا ڈیپارٹمنٹل پروموشن بورڈ بھی عمر شیخ کی گریڈ 21 میں ترقی کی سفارشات مسترد کرچکا ہے۔عمر شیخ نے گریڈ 21میں ترقی نہ ملنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ بھی پولیس آفیسر عمر شیخ کی ترقی کے کے لئے درخواست مسترد کر چکا ہے۔

عمر شیخ کی گریڈ 21 کے عہدے پر سی سی پی او کے عہدے پر تعیناتی پولیس آرڈر 2002کےآرٹیکل 11کی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی تعیناتی کا اقدام کالعدم قرار دے ،مزید استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کے حتمی فیصلے تک سی سی پی او عمر شیخ کو کام سے روکنے کا حکم دیا جائے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل سربراہ لاہور پولیس محمد عمرشیخ کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا  اجلاس ہوا تھا،جس میں قبضہ گروپوں،منشیات فروشوں اور جوا خانوں کیخلاف کریک ڈائون کا جائزہ لیا گیاجبکہ سٹریٹ کرائمز،بینکوں کے باہر ڈکیتی کی وارداتوں اور ہاٹ سپاٹ ایریاز میں کرائم کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا  کہ منشیات کے دھندے میں ملوث  بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالا جائے گا۔