ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

علی امین گنڈا پور کا اڈیالہ جیل کی جانب پیدل مارچ، پولیس سے تلخ کلامی

علی امین گنڈا پور کا اڈیالہ جیل کی جانب پیدل مارچ، پولیس سے تلخ کلامی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے آج راولپنڈی میں اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کے لیے جیل کی جانب پیدل مارچ شروع کیا تاہم پولیس نے انہیں گورکھپور ناکہ پر روک دیا جس کے باعث موقع پر شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی۔

ذرائع کے مطابق علی امین گنڈا پور نے پولیس اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تم میرا راستہ نہیں روک سکتے، میرے پاس عدالت کا حکم موجود ہے۔ میں ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ ہوں اور مجھے جیل جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔گورکھپور ناکے پر ان کے سکیورٹی پروٹوکول کو بھی روکا گیا جس پر وزیر اعلیٰ کے سکیورٹی آفیسر سب انسپکٹر سلیم قریشی نے پولیس سے مذاکرات کیے اور مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ کے پروٹوکول کو آگے جانے کی اجازت دی جائے۔

کچھ دیر بعد علی امین گنڈا پور پیدل ہی جیل کی طرف روانہ ہو گئے۔ ان کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ ناکہ عبور کرنے کے بعد پی ٹی آئی رہنما ایک پبلک سروس سوزوکی میں سوار ہو کر جیل کی جانب روانہ ہوئے۔

اڈیالہ جیل میں آج بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن مقرر تھا جس کے باعث تحریک انصاف کے اہم رہنما بشمول صوبائی وزیر سہیل آفریدی، شاہد خٹک، محسن جتوئی، ذوالفقار خان نوشہرہ، فتح اللہ برکی، معظم جتوئی اور ایم این اے جمال احسن، بھی گورکھپور ناکے پر پہنچے اور بعد ازاں جیل کی جانب روانہ ہوئے۔

حساس صورتحال کے پیش نظر علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور اڈیالہ جیل کے اطراف میں  پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔