ویب دیسک : خیبرپخونخوا حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر موٹر سائیکل سواروں کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے سبسڈی دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے پیش نظر موٹرسائیکل سواروں کو ریلیف دیتے ہوئے 2200 سبسڈی دینے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے 14 لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکل سواروں کے لیے 2200 روپے کا ریلیف پیکج جاری کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ بی آر ٹی کے کرایوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جائے گا، بی آر ٹی کے لیے مزید 140 بسیں خریدی جائیں گی جن میں سے 52 بسیں تیار ہو چکی ہیں، انہوں نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر بی آر ٹی میں خواتین کے لیے پنک بسیں چلانے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی کٹائی کے موقع پر کسانوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج بھی تیار کیا جا رہا ہے جس کا جلد اعلان کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے اضافے کو عوام پر ظلم قرار دیا، کہا کہ صوبائی حکومت اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے۔ ماضی میں کم اضافے کو پٹرول بم کہا جاتا تھا جبکہ اب 55 روپے اضافہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں 5300 ارب روپے کی کرپشن کے انکشافات کے بعد عوام پر مزید بوجھ ڈالنا قابل قبول نہیں، ایسے حالات میں وفاقی حکومت کو اپنے اخراجات کم کر کے عوام کو ریلیف دینا چاہیے تھا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا، نئی گاڑیاں خریدنے اور غیر ملکی سرکاری دوروں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پٹرول پمپوں کی نگرانی کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے خصوصی پٹرول مانیٹرنگ ڈیش بورڈ قائم کیا ہے جس کے ذریعے فراہمی اور ذخیرہ اندوزی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔