سٹی 42 : سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری نے اعلان کیا ہے کہ وہ گورنر ہاؤس میں ہیلپ لائن ”1133“ کا آغاز کررہے ہیں اور جن عمارتوں کو خطرناک قرار دیا جا چکا ہے، ان کے متاثرہ مکینوں کو 80 گز کے متبادل پلاٹس دیے جائیں گے۔
کراچی میں لیاری کے علاقے بغدادی میں عمارت گرنے کے افسوسناک واقعے پر گورنر کامران ٹیسوری نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر کامران ٹیسوری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ حادثہ ایسا ہے جس کی مذمت کے لیے الفاظ بھی ناکافی ہیں، دنیا چل رہی تھی لیکن ایسی انہونی ہوئی کہ کسی کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا۔ انہوں نے کہا کہ اچھی بات ہے سندھ حکومت نے فوری ردعمل دیا، ڈی جی کو ہٹایا، لیکن صرف چہرے بدلنے سے نظام نہیں بدلا جا سکتا، ہمیں عمارت کے گرنے کی وجوہات تلاش کرنا ہوں گی کہ یہ کب بنی اور کیسے منظور ہوئی۔
کامران ٹیسوری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم اس مسئلے پر سیاست نہیں کریں گے بلکہ متاثرین کو انصاف دلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں کئی جگہوں پر 80 گز کے پلاٹس پر ناقص تعمیرات کی گئیں، ان سب کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔
گورنر سندھ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ وہ گورنر ہاؤس میں ہیلپ لائن ”1133“ کا انعقاد کر رہے ہیں اور جن عمارتوں کو خطرناک قرار دیا جا چکا ہے، ان کے متاثرہ مکینوں کو 80 گز کے متبادل پلاٹس دیے جائیں گے۔
گورنر سندھ نے انکشاف کیا کہ زیادہ تر جاں بحق افراد کا تعلق ہندو برادری سے ہے، جس پر انہیں دلی افسوس ہے۔ انہوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈی جی کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر شہر کی تمام مخدوش عمارتوں کا سروے کروائیں۔ کامران ٹیسوری نے کہا کہ ”یہ شہر یتیموں کا نہیں ہے، لیاری سب کا ہے۔“
گورنر کامران ٹیسوری نے متاثرہ افراد کے لیے روزگار اور نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”میں نے بلڈر سے بات کی ہے، جو بھی لوگ رجسٹریشن کروائیں گے، اُن کے لیے مزید بلڈرز سے بھی بات کی جائے گی۔ گورنر ہاؤس کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔“