سٹی42: ایران جنگ کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل کی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ جنگ کے دوران آئی ڈ یایف کو ساری فوجی قیادت کے بیک وقت مارے جانے کا ویسا ہی خدشہ تھا جیسے انہوں نے ایران کی ساری فوجی قیادت کو ختم کیا تھا۔
آئی ڈی ایف کی شیڈو کمانڈ ایران جنگ کے دوران فوجی ہائی کمان کے اچانک نشانہ بن جانے کی صورت میں جگہ لے کر آپریشنز جاری رکھنے کے لیے تیار تھی۔
پہلی بار، اسرائیلی فوج نے ایسے منظرناموں کی تیاری کی جس میں ایران پر حملہ کرنے کے بعد اس کی پوری ملٹری کمانڈ کو ہلاک کرنا اور اس کی فوج کے سینئر ارکان کو قتل کرنا شامل تھا۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے اس امکان کی بھی تیاری کی کہ خود اس کی بھی ساری سینئیر قیادت کسی جوابی کارروائی میں ماری جا سکتی ہے۔
نیوز آؤٹ لیٹ وائی نیٹ نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ آئی ڈی ایف نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران ایک محفوظ بنکر میں موجود شیڈو جنرل سٹاف کو تیار کیا تھا۔
اگر جنگ میں فوج کے آپریشنز کی کمان کرنے والے موجودہ سینئیر اہلکار ہلاک ہو جاتے تو الگ جگہ پر بنکر میں موجود متبادل قیادت کو کمان منتقل ہو جاتی۔ اس شیڈو قیادت کو جنگ کے تمام آپریشنز کے متعلق ضروری تفاصیل سے آگاہ رکھا جا رہا تھا۔
وائی نیٹ نے بتایا کہ بنکر میں موجود ڈپٹی چیف آف سٹاف تمر یادائی کی کمان میں افسران، سینئر موجودہ اور ماضی کے کمانڈروں کو متبادل قیادت فراہم کرنے کے لئے جنگ کے آپریشنل منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔