ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بریگیڈئیر راشد نصیر کی اخلاقی فتح، اپیل میں عدالت نے عادل راجہ کا جرمانہ بڑھادیا

 Adil Raja, London High Court, Extradition, Brigadior Rashid Naseer, City42
کیپشن: file photo لندن ہائی کورٹ میں عادی مجرم عادل راجا کی بریگیڈئیر راشد نصیر کو ہرجانہ دینے سے بچنے کی کوشش اس کے ہی گلے پڑ گئی، عدالت نے مجرم کو جرمانہ زیادہ کر دیا اور معافی تما مسوشل میڈیا اکاؤنٹس کے پروفائلز پر 28 روز تک نمایاں رکھنے کا حکم بھی دے دیا۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پاکستان کی ریاست اور افواج سے متعلق شخصیات پر جھوٹے الزامات لگانے کے پرانے عادی پاکستان مخالف عادل راجہ  کو لندن ہائی کورٹ میں  شدید عزیمت اٹھانا پر گئی۔ پاکستان کے ایک ریتائرڈ افسر پر الزامات تھوپنے کا مقدمہ ہارنے کے بعد عادل راجہ نے خفت مٹانے کے لئے ہائی کورٹ میں اپیل کی تو  ہائی کورٹ نے اس کے جھوٹے الزامات کی نوعیت کو دیکھ کر جرمانے کی سزا مزید برھا دی۔  عدالت کے جج  رچرڈ سپئیرمین نے حکمنامہ جاری کردیا. 

عدالت کے احکامات کے مطابق; جج نے عادل راجہ کو بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر سے عوامی سطح پر معافی مانگنے کا حکم دے دیا ہے۔ 
عادی کاذب  کو عدالت نے حکم دیا ہے کہ وہ  جھوٹےالزامات تھوپنے  پر اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے عام  معافی نامہ شائع کرے گا جو ان اکاؤنٹس پر 28 دن تک موجود رہنا چاہئے۔

عادل راجہ کو 50،000 پاؤنڈ یعنی ایک کڑور ستاسی لاکھ  روپے زر تلافی اور دو لاکھ ساٹھ ہزار  260,000 یورو یعنی نو کڑور 71  لاکھ روپے 22 دسمبر تک جمع کروانے کا بھی ھکم دیا گیا ہے۔ 

عادل راجہ  اکتوبر میں  مقدمہ ہار گیا تھا۔  اس شکست کو چند ہفتے تک چھپانے کے لئے  عادی مجرم عدال راجہ نے لندن ہائی کورٹ مین اپیل کر دی لیکن یہاں اسے زیادہ شدید عزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت نے تمام تفاصیل سننے اور ملزم کے وکیل کے دلائل کا تجزیہ کرنے کے بعد جرمانے کی سزا کو کچھ زیادہ سخت کر دیا۔

 ہائی کورٹ کے جج رچرڈ سپئیر مین کے سی نے ہائی کورٹ کی سماعت کے دوران فیصلہ سنایا

ریٹائرڈ بریگیڈیئر راشد نصیر نے عدالت سے کہا تھا کہ وہ اکتوبر میں سنائے گئے فیصلے سے متعلق آرڈر جاری کرے۔

نئے حکم کے مطابق  عادی مجرم عادل راجہ کو 22 دسمبر تک 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ اور عدالتی اخراجات کی مد میں دو لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ ادا کرنا ہوں گے۔

اضافی عدالتی اخراجات کا تخمینہ بعد میں لگایا جائے گا اور وہ بھی عادل راجہ کو ہی ادا کرنا ہیں۔

جج نے عادل راجہ کو آئندہ ہتک آمیز بیانات نہ دھرانے کا حبھی پابند کردیا ۔

عادل راجہ کے وکیلنے اب اس  فیصلے کے خلاف کورٹ آف اپیل میں جانے کا عندیہ دیا ہے۔

اکتوبر میں سنائے گئے فیصلے میں جج نے عادل راجہ کے بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر کے خلاف الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا  

اس عدالت نے عادل راجہ کو 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنے کا فیصلہ سنایا تھا ۔

جج نے یہ حکم بھی دیا تھا کہ وہ فیصلے کا خلاصہ شائع کرے کہ الزامات ہتک آمیز تھے اور یہ کہ بریگیڈیئر نصیر مقدمہ جیت گئے ہیں۔

آج فیصلہ سننے کیلئے بریگیڈ راشد نصیر عدالت میں موجود تھے جبکہ عادی مجرم عادل راجہ کو ریٹائرڈ بریگیڈئیر کے سامنے آنے کی جرات نہیں ہوئی۔ اس نے اپنے وکیل عدالت بھیجے۔ خود گھر مین چھپا رہا۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر نے عادی مجرم کی ٹوئٹر، فیس بک اور یو ٹیوب پر شائع 10 ہتک آمیز اشاعتوں کو ہتک آمیز قرار دے کر ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا 

عادل راجہ نے ریٹائرڈ بریگیڈئیر راشد نصیر پر لاہور ہائی کورٹ کا کنٹرول سنبھالنے جیسے بے ہودہ اور سراسر بے سروپا  الزامات عائد کئے تھے۔ ریٹائرڈ بریگیڈئیر پاکستان سے باہر بیتھ کر پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے میں بدنام عادی مجرم کو سبق سکھانے کے لئے خاص طور سے انگلینڈ گئے اور وہاں عدالت میں اس کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ  لڑا اور اس مجرم کو اپنے خلاف جرائم کی حد تک کیفر کردار تک پہنچایا۔

عدال راجہ کے لئے زیادہ بری صورتحال

اس مقدمہ میں شرم ناک سزا کے ساتھ  عادی جھوٹے عدال راجہ کیلئے زیادہ بری صورتحال یہ پیدا ہو گئی کہ پاکستان کی حکومت نے بار بار وارننگ دینے کے بعد آخر کار اس کو پاکستان کے حوالے کرنے کے لئے انگلینڈ کی حکومت سے درخواست کر دی اور وزیر داخلہ محسن نقوی خود اس عادی مجرم کو انگلینڈ سے نکلوا کر پاکستان لانے کے لئے لندن پہنچ گئے۔  اس وقت مھسن نقوی لندن میں ہی موجود ہیں۔