سٹی 42 : پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے تمام سکولوں اور تعلیمی اداروں کے باہر ڈیجیٹل نگرانی کے لئے کیمرے نصب کرنے کا حکم دے دیا، ساتھ ہی پنجاب پولیس کو سکول ایجوکیشن کے ساتھ ملکر تعلیمی اداروں میں فرضی مشقیں کرانے کی ہدایت بھی کردی ۔
تعلیمی اداروں کے لئے سیکورٹی گارڈ، انٹری چیکنگ اور سی سی ٹی وی لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب میں دوسروں صوبوں سے آنے اور جانے والی بسوں کے ڈرائیو اور عملے کی رجسٹریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو موٹروے پولیس سے سیکورٹی کے لئے اشتراک کار کی ہدایت کی گئی ہے۔ پنجاب بھر کے پارکس میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور سکیورٹی بہتر بنانے کی ہدایت، اور سیف سٹی اتھارٹی کو صوبہ بھر میں کیمروں کا فنکشنل ری ویو کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
لاہور، راولپنڈی سمیت ہر شہر میں سی سی ٹی وی کیمروں کی کوریج یقینی بنانے کی ہدایت، ساتھ ہی گھروں اور مارکیٹوں میں لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کوسیف سٹی سے منسلک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سماج دشمن عناصر کی بروقت نشاندہی کیلئے کومبنگ آپریشن مسلسل جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
غیر قانونی طور افغانوں کے خلاف کارروائی موثر بنانے کیلئے پنجاب میں مقیم دوسرے صوبوں کے شہریوں سے رابطوں کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے ڈی سی او ر ڈی پی او متعلقہ علاقوں میں عمائدین سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پنجاب میں مقیم دوسرے صوبوں کے شہریوں کی سہولت اورآسانی کیلئے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ مرتب کیاجائے گا، دوسرے صوبوں کے شہریوں کا کمپیوٹرائزڈریکارڈ مرتب کرنے کا مقصدغیرقانونی افغانوں کے درمیان فرق واضح کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نوا زشریف نے حکم دیا ہے کہ پنجاب میں کوئی نمایاں عوامی مقام ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی نگرانی سے خالی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو محفوظ ترین صوبہ بنانے تک چین سے نہیں بیٹھوں گی، پنجاب کو محفوظ ترین بنانے کے لئے شہریوں کی بھی بھرپور معاونت کی ضرورت ہے۔
مریم نواز شریف نے عوام سے اپیل کی ہے کہ شہری اپنے ارد گرد مشکوک، مشتبہ افراد اور سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور 15 پر فوری اطلاع دیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا امن وامان کی صورتحال پر اظہارِ اطمینان کیا، ساتھ ہی پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں اداروں کو مشنری جذبے سے کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔