مصباح ساؤتھ افریقہ سے سیریز جیتنے پر خوشی سے نہال

Misbah ul haq
Misbah ul haq

سٹی 42:ہیڈ کوچ پاکستان کرکٹ ٹیم مصباح الحق سب کے لئے خوشی کی بات ہے کہ ہم ساؤتھ افریقہ میں سیریز جیتے ہیں ساؤتھ افریقہ میں کنڈیشنز مشکل ہوتی ہیں پاکستان کرکٹ کے لئے جیت بہت اچھی ہے۔

قومی کرکٹ ٹیم کی ون ڈے سیریز میں کامیابی کے بعد مصباح الحق کا کہنا تھا کہ جیت سے نوجوان کپتان بابر اعظم کے اعتماد میں اضافہ ہو گا، بابر اعظم نے پرفارم بھی اچھا کیا ہے۔  فخر زمان نے بھی عمدہ پرفارم کیا،  جیتنے سے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے  جس کا فائدہ ہو گا۔  مصباح نے اس بات پر زور دیا کہ مڈل آرڈر اور لوئر آرڈر میں تسلسل کے ساتھ رنز درکار ہیں، لوئر آرڈر میں پاور ہٹنگ چاہئے تاکہ زیادہ رنز درکار ہوں تیسرے میچ میں 320 رنز بھی کم لگ رہے تھے۔

مصباح نے کہا کہ ہمیں اسپنرز کو کھیلنے میں بہتری لانا ہو گی،  اگلے تین ورلڈ کپ بھارت میں ہیں ان کنڈیشنز میں ہمیں اسپنرز کو اچھے انداز میں کھیلنا ہوگا شاداب خان کی پرفارمنس ویسی نہیں جیسی ہونی چاہئے لیکن جن پچز پر وہ کھیلے وہ اسپنرز کے لئئے زیادہ مددگار نہیں تھی۔ ہماری فاسٹ بولنگ اس وقت بہت اچھی ہے فہیم اشرف کی وجہ سے ہمیں فائدہ ہو رہا ہے بابر اعظم کی کپتانی میں بہتری سے بہتری آتی جا رہی ہے۔

فخرزمان کا کھیلنے کا اپنا انداز ہے وہ ٹیم کے لئے موثر ثابت ہو رہا ہے وہ امپیکٹ پلئیر ہے فخر زمان جب بھی رنز کرتا ہے اس سے ٹیم کو فائدہ ہوتاہے،  چیمپئینز ٹرافی میں بھی اس نے ثابت کیا فخر زمان کو بیک کیا ہے اب فارم بہتر ہے تو اسے دوسرے فارمیٹ میں بھی رکھ لیا ہے۔

سرفراز احمد کے لئے مڈل آرڈر میں جگہ بنی تھی تو اس کے لئے سنئیر کھلاڑی کو کھلایا۔ سرفراز احمد میچ میں جتنا بھی کھیلے ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھیلنے کی کوشش کی۔  سرفراز احمد کو مڈل آرڈر میں کھلانے کا فیصلہ کنڈیشنز کے مطابق ہو گا ہم ون ڈے میں آئندہ کی مصروفیات اور ضرورت کے مطابق نوجوانوں کو ایڈ جسٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ موجودہ دور میں 325 رنز فائٹنگ ہو سکتے ہیں لیکن جیتنے کے لئے اس سے بھی زیادہ کرنا پڑتے ہیں۔ ماڈرن دور میں ضروری نہیں ہے ہر وقت ماردھاڑ والی ہی کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔