ویب ڈیسک: تیونس سے غزہ کے لیے روانہ ہونے والی "مغرب صمود فلوٹیلا" کی روانگی ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی ہے۔
اس قافلے کا مقصد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر عائد غیر قانونی بحری ناکہ بندی کو چیلنج کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے لیے امدادی سامان پہنچانا ہے۔ قافلے میں شامل متعدد پرو فلسطینی کارکنان، انسانی حقوق کے علمبردار اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے رضاکار تیونس کے دارالحکومت میں موجود ہیں، جہاں سے قافلے کو 8 ستمبر بروز اتوار روانہ ہونا تھا۔
تاہم منتظمین نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ روانگی کی نئی تاریخ 10 ستمبر بروز بدھ مقرر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تاخیر کی وجہ بعض "تکنیکی اور انتظامی وجوہات" ہیں جو انتظامیہ کے قابو سے باہر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اب بھی اپنے مشن کے لیے پُرعزم ہیں اور روانگی کی تیاریوں کو مکمل کرنے میں مصروف ہیں۔
واضح رہے کہ مغرب صمود فلوٹیلا، اسپین اور اٹلی سے روانہ ہونے والے "گلوبل صمود فلوٹیلا" کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، جو بین الاقوامی سطح پر فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بنایا گیا ایک بحری مشن ہے۔ اس مہم کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی نہ صرف انسانیت کے خلاف ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی خراب موسم کے باعث قافلے کی روانگی میں تاخیر ہو چکی ہے اور اب یہ دوسری بار ہے کہ تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر اس مشن کو مؤخر کیا گیا ہے۔ اس مہم کو دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔