حاشر وڑائچ: ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کے مبینہ اغواء اور دھمکیوں کے مقدمے میں گرفتار ملزم حسن زاہد کو عدالت میں پیش کر دیا گیا، جہاں عدالت نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
حسن زاہد کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ محمد اظہر ندیم کی عدالت میں پیش کیا گیا۔دوران سماعت وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے پہلے بتایا تھا کہ ملزم کا 2روزہ ریمانڈ منظور ہوا تھا جبکہ اب اسے 5دن بعد عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس پر عدالت نے ریمانڈ کے پرانے عدالتی حکم نامے کا جائزہ لینے کا کہا۔ پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ پہلے ریمانڈ میں ٹائپنگ کی غلطی ہوئی تھی، جسے فوراً درست کروا لیا گیا تھا۔
عدالت میں ملزم حسن زاہد اور مدعیہ سامعہ حجاب کی مالی لین دین کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں جبکہ مدعیہ کے والدین کے حوالے سے دیا گیا بیان، منگنی کی تصاویر اور دیگر شواہد بھی وکیل صفائی کی جانب سے عدالت کے روبرو رکھے گئے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حسن زاہد اور سامعہ حجاب کی منگنی ہو چکی تھی اور دونوں کے درمیان مالی معاملات بھی موجود تھے۔
پراسیکیوشن کے مطابق ملزم سے 45 ہزار روپے برآمد کر لیے گئے ہیں جبکہ مزید تفتیش کے لیے گاڑی، اسلحہ اور دیگر ساتھی ملزمان کی گرفتاری درکار ہے، لہٰذا ملزم کا مزید آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ حسن زاہد کو ایک مقدمے میں ضمانت ملنے کے بعد جان بوجھ کر دوسرے مقدمے میں گرفتار کیا گیا، اور جس وقت کا وقوعہ ظاہر کیا گیا ہے، اس وقت ملزم جناح سپر مارکیٹ میں موجود تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب حسن زاہد نے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا تو اسے جعلی رسیدیں فراہم کی گئیں۔
واضح رہے کہ حسن زاہد کے خلاف مقدمہ تھانہ شالیمار میں درج کیا گیا ہے، اور عدالت نے دلائل سننے کے بعد جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔