ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آئی پی ایل2026 ، بھارتی بورڈ نے کس مجبوری پر فائنل مقابلے کی جگہ تبدیل کر دی ؟

آئی پی ایل2026 ، بھارتی بورڈ نے کس مجبوری پر فائنل مقابلے کی جگہ تبدیل کر دی ؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک )بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ ( بی سی سی آئی) نے اعلان کیا ہے کہ 31مئی کو ہونیوالاانڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل)2026کا فائنل مقابلہ  کچھ آپریشنل اور لاجسٹک وجوہات کی بنا پر اب بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ پہلے یہ مقابلہ بنگلورو میں کھیلا جانا تھا ، تاہم  تاہم مقامی کرکٹ ایسوسی ایشن اور  انتظامیہ کے کچھ مطالبات کے باعث بی سی سی آئی نے اس فائنل کی جگہ تبدیل کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق  پوائنٹس ٹیبل کی سرفہرست دو ٹیمیں26مئی کو دھرم شالہ کے ایچ پی سی اے اسٹیڈیم میں کوالیفائر ون کھیلیں گی۔ اس مقابلے کی فاتح ٹیم براہِ راست فائنل میں جگہ بنائے گی۔اس کے بعد پلے آف کا کارواں چندی گڑھ پہنچے گا۔ 28مئی کو نیو انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ایلیمینیٹر` میچ ہوگا، جس میں تیسرے اور چوتھے نمبر پر رہنے والی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ اسی میدان پر29 مئی کو `کوالیفائر ٹو بھی کھیلا جائے گا، جس میں کوالیفائر ون میں ہارنے والی ٹیم اور ایلیمینیٹرکی فاتح ٹیم کے درمیان مقابلہ ہوگا۔
بی سی سی آئی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کچھ آپریشنل اور لاجسٹک وجوہات کی بنا پر اس بار پلے آف تین مختلف مقامات پر منعقد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے فائنل کی میزبانی بنگلورو کو دی گئی تھی، تاہم مقامی ایسوسی ایشن اور انتظامیہ کے کچھ مطالبات بی سی سی آئی کے طے شدہ رہنما خطوط اور پروٹوکول کے دائرے سے باہر تھے، اسی وجہ سے فائنل کو بنگلورو سے ہٹا کر احمد آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت شہر بنگلورو میں آئی پی ایل 2026کے فائنل کی میزبانی کے امکانات پر سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اراکینِ اسمبلی کو میچ کے ٹکٹ دینے کے معاملے پر جاری سیاسی تنازع کے بڑھنے کے بعد بی سی سی آئی اب اس بڑے میچ کو کسی دوسرے شہر منتقل کرنے کے آپشن پر غور کر رہا ہے۔ یہ تنازع، جو کرناٹک کے اراکینِ اسمبلی کی جانب سے ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں ہونے والے آئی پی ایل میچوں کیلئےمفت وی آئی پی ٹکٹوں کی مانگ سے شروع ہوا تھا، اب ایک حساس سیاسی مسئلہ بن چکا ۔ اس تنازع کے بڑھنے کی وجہ ’وی آئی پی کلچر‘، خصوصی مراعات اور کرناٹک اسٹیٹ کرکٹ ایسوسی ایشن پر مبینہ دباؤ کے حوالے سے تنقید ہے۔

 رپورٹ میں بی سی سی آئی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پلے آف میچوں کو پنجاب اور کرناٹک کے درمیان تقسیم کیے جانے کا امکان ہے، جو موجودہ چیمپئن کی جانب سے فائنل کی میزبانی کی روایت کے مطابق ہے، تاہم، بنگلورو میں انتظامات سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے بورڈ کی منصوبہ بندی کو مشکل بنا دیا ہے۔ بی سی سی آئی کے ایک ذریعے نے کہاکہ’’اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا تو آئی پی ایل فائنل کو بنگلورو سے باہر منتقل کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘یہ تنازع آئی پی ایل2026 کے پہلے میچ سے قبل شروع ہوا تھا، جو رائل چیلنجرز بنگلورو اور سن رائزرز حیدرآباد کے درمیان کھیلا جانا تھا۔ اسی دوران کانگریس کے ایم ایل اے وجے آنند کاشپّنور نے ہر ایم ایل اے کے لیے کم از کم پانچ ٹکٹوں کی مانگ کی تھی اور کہا تھا کہ ایم ایل اے ’وی آئی پی‘ ہوتے ہیں اور انہیں عام لوگوں کی طرح قطار میں نہیں لگنا چاہیے۔

بعدازان  یہ معاملہ کرناٹک اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا، جہاں مختلف جماعتوں کے اراکین نے شکایت کی کہ کے مقامی کرکٹ ایسوسی ایشن  نےحکومت سے لیز پر ملی زمین پر اسٹیڈیم چلانے کے باوجود منتخب نمائندوں کو مناسب وی آئی پی سہولیات فراہم نہیں کر رہا۔ اطلاعات کے مطابق اسمبلی اسپیکر یو ٹی کھادر نے حکومت سے کہا ہے کہ آئی پی ایل میچوں کے دوران اراکینِ اسمبلی کو وی آئی پی ٹکٹ فراہم کیے جائیں۔