ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تھیلیسیمیا سے بچاؤ کیلئے عوامی آگاہی، احتیاطی تدابیر، بروقت تشخیص اور طبی مشاورت ناگزیر ہیں؛ ڈاکٹر خالد مسعود گوندل

تھیلیسیمیا سے بچاؤ کیلئے عوامی آگاہی، احتیاطی تدابیر، بروقت تشخیص اور طبی مشاورت ناگزیر ہیں؛ ڈاکٹر خالد مسعود گوندل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: تھیلیسیمیا کے عالمی دن کے موقع پر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں آگاہی سیمینار کا انعقادکیا گیا ۔
پنجاب تھیلیسیمیا و دیگر جینیاتی بیماریوں کی تشخیص، روک تھام اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ (PTGD)کے تعاون سے فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں تھیلیسیمیا کے عالمی دن کے موقع پر آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار کا بنیادی مقصد تھیلیسیمیا سمیت دیگر جینیاتی بیماریوں کی بروقت تشخیص، بچاؤ اور مؤثر روک تھام کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔
تقریب کی صدارت وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے کی، جبکہ سابق وائس چانسلر پروفیسر شمسہ ہمایوں بطورچیف گیسٹ شریک ہوئیں۔ سابق پرنسپل فاطمہ جناح میڈیکل کالج پروفیسر نورین اکمل اور سابق سربراہ شعبۂ اطفال پروفیسر جویریہ منان نے گیسٹس آف آنرزکے طور پر شرکت کی۔
سیمینار کا موضوع تھا:"اب مزید پوشیدہ نہیں ، اُن افراد کو سامنے لانا جن کی تشخیص ابھی تک نہیں ہو سکی، اور اُن لوگوں کا سہارا بننا جو اب تک نظر انداز رہے ہیں۔"
استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے تھیلیسیمیا منصوبے کی کامیابی میں مؤثر کردار ادا کرنے پر حکومتِ پنجاب کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’بہترین انسان وہ ہے جو انسانیت کے لیے فائدہ مند ہو‘‘، اور یہی جذبہ تھیلیسیمیا سے بچاؤ کی اس جدوجہد کی اصل روح ہے۔انہوں نے بتایا کہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی سے الحاق شدہ تھیلیسیمیا پریوینشن سنٹر دنیا کے نمایاں اور بڑے منصوبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں جدید طبی سہولیات کے ذریعے تھیلیسیمیا اور دیگر جینیاتی بیماریوں کی تشخیص اور روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’احتیاط علاج سے بہتر ہے‘‘، لہٰذا تھیلیسیمیا جیسی مہلک بیماری سے بچاؤ کے لیے عوامی آگاہی، احتیاطی تدابیر، بروقت تشخیص اور طبی مشاورت ناگزیر ہیں۔انہوں نے کامیاب اور شاندار سیمینار کے انعقاد پر پروفیسر معصومہ غضنفر اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس کاوش کو عوامی شعور بیدار کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
ڈائریکٹر جنرل پروفیسر معصومہ غضنفر نے پنجاب تھیلیسیمیا پریوینشن پروگرام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومتِ پنجاب نے 2009-2010 میں پنجاب تھیلیسیمیا و دیگر جینیاتی بیماریوں کی تشخیص، روک تھام اور تحقیقاتی ادارہ قائم کیا۔ یہ ادارہ پنجاب کے 36 اضلاع میں تھیلیسیمیا اور دیگر جینیاتی بیماریوں سے بچاؤ اور ان کے خاتمے کے لیے مفت سہولیات فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ صوبہ بھر میں قائم 9 ریجنل لیبارٹریز،تھیلیسیمیا خون ٹیسٹ، جینیاتی مشاورت، قبل از پیدائش تشخیص، شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ، ڈی این اے جانچ اور کوریونک ویلس سیمپلنگ جیسی جدید سہولیات مہیا کر رہی ہیں۔
پروفیسر جویریہ منان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تھیلیسیمیا منصوبے کی بانی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بیماری سے نہ صرف مریض بلکہ پورا خاندان متاثر ہوتا ہے اور انہیں ذہنی و مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سابق پرنسپل پروفیسر نورین اکمل نے “تھیلیسیمیا کی قبل از پیدائش تشخیص” کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ "کوریونک ویلس سیمپلنگ" (Chorionic villus sampling)ایک ایسا قبل از پیدائش ٹیسٹ ہے جو حمل کے ابتدائی مہینوں میں کیا جاتا ہے تاکہ بچے میں تھیلیسیمیا سمیت دیگر جینیاتی بیماریوں کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔
چیف گیسٹ  پروفیسر شمسہ ہمایوں نے کہا کہ انہیں تھیلیسیمیا ادارے کی پہلی پراجیکٹ ڈائریکٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے منصوبے کے آغاز میں پیش آنے والے چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے راولپنڈی سے کوریونک ویلس سیمپلنگ جیسی جدید سہولت کی خصوصی تربیت حاصل کی، جس کے بعد تھیلیسیمیا کی بروقت تشخیص کے عمل کو مزید مؤثر بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے ساتھ باہمی تعاون کے معاہدے کیے گئے تاکہ جانچ اور اسکریننگ کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ منصوبے کو مزید اضلاع تک توسیع دے کر زیادہ سے زیادہ خاندانوں کو اس سہولت سے مستفید کیا جائے گا۔ انہوں نے پروفیسر خالد مسعود گوندل کی بے مثال قیادت اور مؤثر باہمی تعاون کو بھی سراہا۔
تقریب میں ڈینز پروفیسر بلقیس شبیر، پروفیسر محمد ندیم، ڈائریکٹر جنرل ادارہ پروفیسر معصومہ غضنفر، سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر یاسمین احسان، صدراکیڈمی آففیملی فزیشن ڈاکٹر طارق محمود میاں، تھیلیسیمیا سوسائٹی کے چیف کوآرڈینیٹر عبدالمومن خان، فیکلٹی ممبران، طالبات اور تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی کثیرتعداد نے شرکت کی۔
تقریب کے دوران تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں نے خصوصی ٹیبلو پیش کیا جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔ آخر میں پروفیسر بلقیس شبیر نے مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
سیمینار کے اختتام پر معزز مہمانوں میں اعزازی شیلڈز تقسیم کی گئیں جبکہ آگاہی واک کا بھی اہتمام کیا گیا۔