حسن علی: پٹرول اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے نے شہریوں کے ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ چلانے والوں کو بھی شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمت کے ساتھ ایل پی جی کی قیمت بھی 350 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ سے رکشوں، موٹر سائیکل رکشوں اور آن لائن ٹیکسی سروسز کے کرایوں میں 20 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈرائیورز اور مسافروں کا کہنا ہے کہ موجودہ کرایوں میں اضافہ عوام کے لیے بوجھ بن رہا ہے کیونکہ زیادہ کرایہ مسافر ادا نہیں کر سکتے، جس سے روزمرہ آمدنی پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔
شہریوں اور ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں کمی کی جائے تاکہ عام آدمی کا روزگار اور شہریوں کی نقل و حرکت متاثر نہ ہو۔
ماہرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں اور اس کے اثرات براہِ راست عوام اور ٹرانسپورٹ سیکٹر پر پڑ رہے ہیں، جس کے باعث فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔